خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 614
خطبات طاہر جلد 14 614 خطبہ جمعہ 18 راگست 1995ء ہے جب عادت تھی لوگوں کو کئی قسم کے مبالغے کرنے کی اور نیکیوں میں بھی مبالغے کر کے رسول اللہ نے کی طرف منسوب کر دیا کرتے تھے مگر یہاں جو میں عرض کر رہا ہوں میرے نزدیک چونکہ ترمذی کی حدیث ہے پہلے دور کی حدیث ہے اس لئے ہم اس بنا پر اس کو رد نہیں کر سکتے کہ فرضی بات ہے۔سات سو گنا زیادہ ثواب ملتا ہے یہ دراصل ثواب کا لفظ جو ہے یہ مطلب اس کا نہیں، میں یہ نہیں سمجھتا کہ ایک روپیہ خرچ کیا ہے تو سات سو روپے مل گئے یہ معنے غلط ہیں۔ایک روپے کے خرچ میں بعض دفعہ دنیا میں اگر کوئی معقول خرچ کرتا ہے تو ایک لاکھ بھی مل جایا کرتے ہیں۔حکمت سے کیا ہوا خرچ دنیا میں ہی بہت زیادہ فائدے پہنچا دیا کرتا ہے۔تو سات سو گنا کی نسبت اس روپے سے نہیں ہے جو خرچ کیا گیا ہے۔سات سو گنا کی نسبت اس ثواب سے ہے جو انسان اپنی کوششوں سے حاصل کرتا ہے۔اپنی کوششوں سے جو تم کما کر بہت ہی زیادہ فائدے اٹھا جاتے ہو اپنی طرف سے۔بعض دفعہ لاٹری ڈالی ہے تو ایک پونڈ کے بدلے ایک ملین مل گیا۔خدا کی خاطر جو تم روپیہ پھینکو گے اپنی طرف سے تمہارے بہترین اجر کے مقابل پر وہ سات سو گنا زیادہ ہوگا۔یہ مضمون اگر سمجھیں تو یہ دل کو تسکین بخشتا ہے۔ورنہ سات سو کا حساب کر کر کے اللہ دے تو وہ غریب جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں دو دو آ نے خرچ کئے تھے اور ان کا ذکر خیر آپ کی کتابوں میں ہمیشہ کے لئے جاری ہو گیا۔اس حدیث کو اگر ان معنوں میں سمجھیں جو عام طور پر لوگ بناتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ چودہ سو آنے مل گئے۔وہ چودہ سو آنے کیا چیز، ان کی حیثیت کیا، مگر بعض دفعہ ایک تاجر دو آنے خرچ کرتا ہے اور اس سے بے حد فیض پا جاتا ہے۔حضرت مح موعود علیہ السلام کےزمانے کے بعدی خلیفہ اسی الاول کے زمانے میں مگر ایسے دوست جو صحابی بھی تھے۔ماٹا کہتے تھے ہم ان کو۔وہ مانا صاحب نے حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل سے یہ عرض کیا کہ میں بہت غریب آدمی ہوں مجھے کچھ دیں۔آپ نے فرمایا دیکھو میں دو آنے دوں گا لیکن ایک وعدہ کرنا پڑے گا۔میں تمہیں ایک تجارت بتا تا ہوں وہ شروع کر دو اور دو آنے تمہارا سرمایہ ہیں۔یہ نہیں کھانا بھی۔جو پیٹ بھرنا ہے منافع سے بھر اور کون کرو کہ یہ سرمایہ بڑھتا ہے تو انہوں نے چھابڑی بنائی جیسا کہ حضرت خلیفہ اسیح الاول نے فرمایا تھا۔دو آنے کے چنے لئے اس میں سے شاید پیسہ بچا کے نمک مرچ خریدی، کوئی املی خریدی اور وہ چھابڑی لگالی اور اس چھابڑی سے وہ