خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 608 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 608

خطبات طاہر جلد 14 608 خطبه جمعه 18 را گست 1995ء کرو گے یا د رکھو کہ اس کا نتیجہ اللہ تعالیٰ ضرور نکالے گا۔ رور نکالے گا ۔ اب یہاں جزا د ینے کا مضمون نہیں ہے۔ جس قسم کا آیت کا آغاز ہے اسی سے تو سے تعلق رکھنے والا مضمون ا والا مضمون اس دوسرے حصے میں بیان ہوا ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ میری راہ میں خرچ کرنے والوں کو کہہ دو کہ تمہارا رزق تو میں ضرور بڑھاؤں گا فرمایا ہے وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ کام تم کرتے ہو نتیجہ وہ نکالتا ہے۔ بسا اوقات تمہارا کام نقصان چاہتا ہے جس قسم کے تم کام کر رہے ہو اس کا طبعی نتیجہ نقصان نکلنا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کا جاری قانون جو ہے وہ اپنا عمل دکھاتا ہے اور اس سے تم پھر بچ نہیں سکتے ۔ اس لئے دنیا کی تجارتوں میں ہوش ضروری ہے اور جہاں ہوش میں کمی آئی وہاں بعض دفعہ بنے بنائے کام اس لئے بگڑتے ہیں کہ يُخْلِفُ کا مضمون چل پڑتا ہے۔ جیسا تم نے کام کیا اللہ ویسا ہی نتیجہ نکالے گا۔ یہ فی سبیل اللہ خرچ کی بات نہیں ہو رہی۔ چنانچہ یہاں اَنْفَقْتُم بغیر سبیل اللہ کے ہے لیکن فی سبیل اللہ خرچ بھی اس میں شامل ہے آخر بعض لوگ فی سبیل اللہ کرتے ہیں اس میں يُخْلِفُہ کا مضمون وہی ہے جو پہلے بیان ہو چکا ہے کہ اس کو ایسی تجارت مل جائے گی جو لنْ تَبُورَ کبھی وہ گھاٹے میں نہیں پڑے گی ۔ ان کو ایسا دار نصیب ہو جائے جو ہمیشگی کا دار ہے اور ہر نعمت سے بھرا ہوا ہے۔ تو ہر آیت کے مضمون میں ایک جیسے لفظ کو دیکھ کر خود بخود یہ خیال نہ کر لیا کریں کہ وہی بات ہو رہی ہے۔ ہر آیت کا ماحول الگ الگ ہے۔ ایک ہی مضمون بظاہر یہ دن بظاہر بیان ہو رہا ہے مگر تھوڑے تھوڑے فرق کے سہ کے ساتھ پورے مضمون کا ا منظر بدل گیا ہے اور اس نئے منظر میں ڈوب کر اس آیت کے مضمون کو سمجھنا ضروری ہے۔ اور جہاں تک اس کے نتیجے میں نقصان کا تعلق ہے ایک گر بتا دیا آخر پر وَهُوَ خَيْرُ الرَّزِقِينَ کہ رزق دینے والوں میں سب سے اچھا وہی ہے اس لئے ایسی صورت میں اسی طرف جھکا کرو۔ جب تمہاری چالاکیاں کام نہ آئیں تمہاری کوششیں ناکام، نامراد ثابت ہوں۔ جب ہر ذریعہ تجارت کو فروغ دینے کا تجارت کے نقصان کا موجب بن رہا ہو تو یہ یاد رکھنا وَهُوَ خَيْرُ الرَّزِقِينَ وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ اس سے تعلق جوڑو، اس کے حضور گریہ وزاری کرو تو بسا اوقات وہ ان حالات کو بدل دیتا ہے اور یہاں يُخْلِفُے کا مضمون نہیں بلکہ تقدیر الہی کا مضمون ہے یعنی دعا کی غالب تقدیر کا مضمون ہے۔ اب میں چند حدیثیں اس مضمون کے تعلق میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں ۔ حضرت ابو ہریرہ