خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 605
خطبات طاہر جلد 14 605 خطبہ جمعہ 18 اگست 1995 ء صفت یہ بیان فرمائی ہے وَيَدْرَءُونَ لحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وہ برائی کے بدلے نیکی داخل کرنا چاہتے ہیں یا نیکی کے ذریعے برائیاں دور کرتے رہتے ہیں۔اس مضمون کا تعلق ان کی ذات سے بھی ہے اور گر دو پیش سے بھی ہے۔جو انفاق کی کمی ہے جو استطاعت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اس کی بجائے ایک اور خیر جاری کر دیتے ہیں۔وہ بدیوں کو دور کرتے کرتے ، نیکیاں جاری کرتے کرتے اس کی تمنا کو کسی نہ کسی طرح تسکین دے لیتے ہیں کہ خدا کی راہ میں ہم کچھ کریں۔چنانچہ آنحضرت نے اسی مضمون کو بیان فرماتے ہوئے واضح فرمایا کہ اگر خرچ کرنے کے لئے پیسہ نہیں ہے تو کلمہ خیر تو کہ دیا کرو۔تو یہ جو ہے برائیوں کو دور کرنا اور حسنات کے ذریعے برائیوں کو ہٹادینا یہ ان کے اس کمی کے احساس کے نتیجے میں طبعاً پیدا ہوتا ہے۔جتنے خدا کے نیک بندے ہیں اگر وہ خرچ نہیں کر سکتے دل چاہتا ہے تو اس کمی کو وہ خدمت بڑھا کر پورا کرتے ہیں۔ہر خدمت کے موقع پر آگے آگے رہتے ہیں اور ہر وقت کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح ہم اللہ کی رضا کمالیں۔ان کے متعلق فرمایا لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ ـ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ میں اس طرف اشارہ ہے کہ ضروری نہیں ہے کہ ان لوگوں کو دنیا میں بھی ملے اور صبر کا تعلق بھی اس مضمون سے دہرا ہے۔بسا اوقات ایک انسان خدا کی خاطر ، اس کی رضا کی خاطر، ہر نعمت سے محروم رہتے ہوئے پھر بھی ایک تسکین کی زندگی بسر کر رہا ہوتا ہے لیکن صبر کے نتیجے میں۔اگر صبر نہ ہوتو پھر اس کو نہ تسکین نصیب ہوسکتی ہے نہ اس کی نیکی کی کوئی ضمانت ہے۔اگر ایسا شخص جو اللہ کی رضا نہ جانتا ہو، اللہ کی رضا کا واقف ہی نہ ہو ان حالات میں گزارہ کرے جو قرآن کریم مومنوں کے بیان فرمارہا ہے تو پھر اس میں صبر کی طاقت نہیں ہوسکتی تھی اور صبر کی طاقت نہیں ہوگی تو ہمیشہ غریب آدمی سے سوسائٹی کو زیادہ خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔اس کی طلب کا معیار جو ہے وہ ادنی چیزوں سے شروع ہو کر اعلیٰ تک پہنچتا ہے۔ایک امیر آدمی بعض دفعہ ایک معمولی چیز کو دیکھتا ہے اس کے دل میں چوری کا تصور بھی پیدا نہیں ہوتا۔کسی کا ایک رومال گرا ہوا ہے، ایک پن گرا ہوا ہے، کوئی چھوٹی موٹی چیز رہ گئی ہے اور اگر واقعہ امیر آدمی ہو تو کیمرہ ، ویڈیو اس قسم کی چیزیں وہ ٹھو کر بھی مارے تو اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا اس لئے اس کے وہم میں بھی نہیں آئے گا کہ میں اس کو چرالوں۔مگر ایک غریب بعض دفعہ ایسی ایسی چیزیں بھی چرا لیتا ہے جس کے متعلق آدمی حیران ہو جاتا ہے کہ اس بے وقوف کو کیوں نہیں خیال آیا کہ یہ ظلم نہ کروں۔