خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 56 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 56

خطبات طاہر جلد 14 56 خطبہ جمعہ 20 /جنوری 1995ء سے بھی متنبہ کیا ہے جو آپ کے مرنے کے بعد پھر کسی وقت آئے گا۔تو اس کل کے نگران آپ ہو کیسے سکتے ہیں محض اپنے اعمال پر بھروسہ کر کے۔ایک ہی رستہ ہے کہ اس ذات سے تعلق قائم کریں جس پر کوئی فنا نہیں ہے جو آج کا بھی مالک ہے اور کل کا بھی مالک ہے۔اس دنیا کے کل پر بھی اس کا قبضہ ہے اور اُس دنیا کے کل پر بھی اس کا قبضہ ہے۔وہ دعائیں ، وہ نہ نظر آنے والے رستے بن جائیں گے جو آئندہ آپ کی اولاد کو پھر ان کی اولا دکو پھر ان کی اولاد کو ہمیشہ سنبھالتے چلے جائیں گے۔حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد جو سب سے پہلی بات اپنی اولاد کو اکٹھا کر کے کہی تھی بڑی قیمتی بات ہے۔وہ بتاتی ہے کہ کس طرح آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی دعاؤں پر گہرا ایمان تھا اور مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے ثبوت کے طور پر ایک عظیم ثبوت ہے۔جب مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وصال ہوا ہے تو ظاہری طور پر دنیا کے لحاظ سے وہ گھر خالی تھا۔حضرت اماں جان نے بچوں کو اکٹھا کیا اور کہا دیکھو بچو تمہیں دنیا کے لحاظ سے کچھ دکھائی نہیں دے گا مگر یہ گمان نہ کرنا کہ تمہارے باپ نے تمہارے لئے پیچھے کچھ نہیں چھوڑا وہ دعاؤں کا ایسا خزانہ چھوڑ کے گیا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔تمہیں بھی ملے گا تمہاری اولادوں کو اور ان کی اولادوں کو اور ان کی اولادوں کو ملتا چلا جائے گا۔یہ لا متناہی خزانہ ہے جو کبھی کسی باپ نے ایسا خزانہ کم ہی چھوڑا ہوگا جیسا تمہارے باپ نے تمہارے لئے چھوڑا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس بات کو بیان کیا۔حضرت پھوپھی جان سے میں نے سنا۔ان دونوں سے تو مجھے یاد ہے اور ایسے وجد کی حالت میں وہ بیان کیا کرتے تھے کہ دیکھو کیسی عظیم بات تھی اور کتنی سچی بات تھی۔اس سے بڑا حوصلہ، اس سے بڑا سہارا مل نہیں سکتا تھا مگر وہ نظر آنے والا خزانہ تو نہیں تھا۔وہ دعاؤں کے رسوں میں بندھا ہوا ایک ایسے Crucible میں موجود تھا۔نہ وہ Crucible ، نہ وہ برتن دکھائی دے رہا تھا نہ اس کے اندر کیا ہے وہ دکھائی دے رہا تھا۔لیکن ایمان کی دولت سے ،ایمان کی آنکھ سے ان کو دکھائی دینے لگا تھا۔جانتے تھے کہ یہ سچی بات ہے اور آج ہم نے دیکھا ہے کہ یہ بات سچی نکلی۔ہماری نسلیں بھی دیکھیں گی کہ یہ بات سچی نکلی لیکن اس خزانے کے مالک سے تعلق نہیں تو ڑنا