خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 602
خطبات طاہر جلد 14 602 خطبہ جمعہ 18 اگست 1995 ء صرف وہی ہے اور کچھ بھی نہیں۔یہ جو صوفیاء کا مضمون ہے انہوں نے غلط سمجھا ہے اس لئے کچھ اور باتیں بنادیں انا الحق جس سے نعرہ پیدا ہوا ہے، اس کا اصل یہ تھا کہ اپنے وجود کو کلیہ اللہ کے لئے ہم آہنگ کر دو یہاں تک کہ تمہاری کوئی الگ آواز باقی نہ رہے۔ہر تمہاری تمنا اللہ کی تمنا کے ساتھ چلے۔اللہ کی رضا کی ہواؤں کے رخ پر تمہاری زندگی کی ہر آرزو جاری ہو جائے۔یہ ہے وہ فنا جس کے بعد انا الحق کا نعرہ برحق ہے کہ میں تو کچھ بھی نہیں رہا، میرا تو سب کچھ اللہ کے لئے ہو گیا ہے تبھی قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو یہ اعلان کرنے کا حکم فرمایا قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام : 163) مجھے دیکھو میرا اپنا کچھ بھی باقی نہیں رہا۔میرا مرنا جینا، میرا اٹھنا سونا، میری عبادتیں، ہر چیز ہر قربانی کلیہ اللہ کے لئے ہوگئی ہے۔تو یہ وہ انفاق فی سبیل اللہ ہے جس کا نقشہ قرآن کریم کھینچتے ہوئے فرماتا ہے یہ ضائع نہیں کر رہے اپنی چیزوں کو۔جو اندھیروں میں خرچ کرتے ہیں اور کھل کر بھی خرچ کرتے ہیں یہ کہیں پھینکتے نہیں دراصل يَرْجُونَ تِجَارَةً - يَرْجُونَ سے پتا چلتا ہے کہ ان کی نیتوں میں للہ قربانی کا مضمون ہمیشہ داخل رہتا ہے۔بعض لوگ اپنی فطرت کی مجبوری سے نیک کام کرتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا ہی اس کام کے لئے کیا ہے کہ لوگوں کے لئے بھلائی کا موجب بنیں لیکن با شعور طور پر بالا رادہ خدا کی خاطر یہ نہیں کرتے۔اس لئے جہاں کوئی طبعی روک پیدا ہو جائے وہاں رک جائیں گے۔جہاں روک نہ پیدا ہو وہاں فطرت کے مطابق خرچ کریں گے۔مگر جو اللہ کی خاطر کرتے ہیں وہ روکیں عبور کر کے بھی کرتے ہیں۔ایسے وقت میں بھی کرتے ہیں کہ جب ان پر خود ایسی تنگی کا زمانہ ہو کہ گویا رزق سے محبت ہو جائے پھر بھی اللہ کی خاطر خرچ کرتے ہیں۔تو اس لئے يَرْجُونَ تِجَارَةً سے ان کا ادنیٰ ہونا ثابت نہیں، ان کا اعلیٰ ہونا ثابت ہوتا ہے۔کوئی عام آدمی جوان مضامین کو نہیں سمجھتا وہ یہ سمجھے گا کہ خود غرض ہی لوگ ہوئے نایرجُونَ تِجَارَةً وہ ایک تجارت کی خاطر کر رہے ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوگی۔حالانکہ کوئی انسان جو اپنے فائدے کی خاطر کام نہیں کرتا وہ قربانی کرنے والا نہیں وہ پر لے درجے کا احمق ہے۔صرف فیصلہ یہ ہے کہ تھوڑا دے کر زیادہ حاصل کرتا ہے یا زیادہ دے کر تھوڑا حاصل کرتا ہے۔