خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 601 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 601

خطبات طاہر جلد 14 601 خطبہ جمعہ 18 /اگست 1995ء غافل رہتے ہوئے مالی قربانی کرتے ہیں ان کو بھی رد تو نہیں کیا جاسکتا کیونکہ بسا اوقات ایک ٹانگ والے انسان بھی ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کو رد کیا جاتا ہے جو مالی قربانی نہیں کر سکتے ، پیچھے رہتے ہیں لیکن عبادتوں میں ٹھیک ہیں جماعت کا سبھی حصہ ہیں۔مگر امر واقعہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو صف اول کے لوگ ہیں وہ دونوں ٹانگوں سے درست ہوتے ہیں اور ان کی رفتار باقیوں کے مقابل پر بہت تیز ہوتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے جو مالی قربانی کرنے والوں کی تعریف بیان فرمائی ہے اس کی بنیاد ہی اس بات سے اٹھائی ہے کہ تلاوت کرنے والے لوگ ہیں، نمازیں قائم کرنے والے لوگ ہیں اور اس کے نتیجے میں ان میں قربانی کا ایک جذبہ پیدا ہوتا ہے اور یہاں بھی جیسے پہلے میں نے بیان کیا تھا یسرا کو پہلے رکھا ہے۔سِرًّا وَعَلَانِيَةً ، علانية و سراً نہیں فرمایا۔یہ جو خرچ کرتے ہیں پہلا رجحان ان کا چھپ کے خرچ کرنے کا ہے۔سوائے خدا کے کوئی آنکھ نہ دیکھ رہی ہو اور یہ خرچ کرتے ہوں اور جس کے خرچ میں یہ روح ہو اس کو کوئی شخص کسی پہلو سے بھی متہم نہیں کر سکتا۔اس پر یہ الزام لگا ہی نہیں سکتا کہ اس میں ریا کاری ہے کیونکہ ایک ہی آنکھ ہے جو اندھیروں میں بھی دیکھتی ہے، پردوں کے پیچھے بھی دیکھتی ہے وہ اللہ کی آنکھ ہے۔پس یہ لوگ جب چھپ کے خرچ کرتے ہیں تو لازماً رضا باری تعالیٰ کی خاطر خرچ کرتے ہیں اور چھپ کے خرچ کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اپنے وجود کی ، اپنی انا کی کلیہ نفی کر دی ہے کیونکہ جو شخص انا کی کلیہ نفی کرتا ہے وہ بالکل پاگل ہوتا ہے۔اللہ کے بزرگ بندے خصوصاً انبیاء جو بزرگی میں سب سے بالا ہوتے ہیں وہ اپنی قربانی کی سب سے زیادہ قیمت وصول کرنے والے ہیں کیونکہ ان کی ہر چیز تِجَارَةً لَّنْ تَبُورَ کے لئے وقف ہو جاتی ہے۔معمولی سے معمولی زندگی کا اتفاق بھی عبادت بن جاتا ہے اور چونکہ محض اللہ کی خاطر کرتے ہیں اس لئے وہ سب سے زیادہ سے زیادہ اپنی دولت کا اپنی نعمتوں کا پھل پاتے ہیں۔نقصان والا وہ ہے جو اس راہ سے ہٹ کر دوسری جگہ خرچ کرتا ہے۔بہت سے لوگ ہیں جن کے خرچ ملے جلے ہیں۔کچھ نقصان کے سودے ہو گئے کچھ فائدے کے بھی ہیں زندگی کا گزارہ چلتا رہتا ہے لیکن انبیاءوہ ہیں جو اپناسب کچھ تمام تر پھر خدا کی راہ میں لٹا دیتے ہیں اس لئے یہ انا کو برباد نہیں کرتے بلکہ اپنے وجود، اپنے احساس وجود کو جیسا فائدہ یہ پہنچاتے ہیں دنیا میں کوئی نہیں پہنچا سکتا کیونکہ اگر کسی کا احساس وجود خدا کے احساس وجود سے ہم آہنگ ہو جائے ، اس میں شامل ہو جائے تو پھر وہ مضمون پیدا ہوتا ہے کہ