خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 600
خطبات طاہر جلد 14 600 خطبہ جمعہ 18 اگست 1995ء کبھی نہ ختم ہونے والی تجارت ہے یہ وہ چاہتے ہیں۔اس مضمون میں بھی جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا تھا انفاق فی سبیل اللہ کے مضمون کو بعض دوسری نیکیوں کے ساتھ باندھا گیا ہے ورنہ محض انفاق اپنی ذات میں کوئی چیز نہیں۔بسا اوقات جو لوگ کہتے ہیں کہ جو روپیہ خرچ کرتے ہیں ان کو بہت اہمیت دی جاتی ہے جو نہیں خرچ کر سکتے ان کو اہمیت نہیں دی جاتی۔یہ سب نفس کے بہانے ہیں۔عملاً جماعت کے نظام میں ہرگز امیر اور غریب میں قطعاً فرق نہیں ہے۔تقویٰ کا فرق ہے۔اگر کوئی غریب متقی ہو وہ ایک دھیلا بھی خدا کی راہ میں دے تو اس کی عزت کی جاتی ہے اور امیر اگر دے تو اس احساس کمتری کے نتیجے میں اس کی کوشش کورد بھی نہیں کیا جاتا۔یہ خیال کہ امیر کو اہمیت نہ دی جائے یہ بھی جاہلانہ خیال ہے جو احساس کمتری کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔اگر برابر کی آنکھ ہے تو خدا کی راہ میں خدمت کرنے والوں کو ایک ہی طرح دیکھے گی خواہ امیر ہو خواہ غریب ہو، یہ فرق آتا ہی نہیں ذہن میں۔یہ وہ دیوار ہے ہی نہیں جو کہیں حائل ہوتی ہو۔اس لئے جن لوگوں کو اس مضمون کا علم نہیں، اس کا شعور نہیں رکھتے وہ اپنی ٹیڑھی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔سمجھتے ہیں یہاں یہ بات ہو گئی وہاں وہ بات ہو گئی۔حالانکہ اللہ کی خاطر خرچ کرنے والے اور اللہ کی خاطر خر چوں کو قبول کرنے والے لوگوں نے بیچ میں یہ عارضی جور کا وٹیں لگائی ہوئی ہیں ان سے بالکل مبرا ہیں، اس قسم کی کوئی روک ان کی راہ میں حائل نہیں ہوتی۔ہر انسان بحیثیت انسان دکھائی دیتا ہے اور اکرم وہی ہے جو اقتی ہو۔جو حقیقۂ خدا سے ڈرنے والا اور پیار کرنے والا ہواس کو جو خدا تعالیٰ نے عزت بخشی ہے کوئی انسان اس عزت کو چھین نہیں سکتا خواہ وہ امیر ہو یا غریب ہو۔مگر اللہ تعالیٰ خرچ کرنے والوں کی کچھ صفات بیان فرماتا ہے کہ وہ خرچ کرنے والے جو میری خاطر خرچ کرتے ہیں یا ایسا خرچ کرتے ہیں جن کے متعلق میں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ وہ کبھی ختم نہیں ہوگا ان کی صفات یہ ہیں اِنَّ الَّذِینَ يَتْلُونَ كِتَبَ اللهِ کہ اللہ کی کتاب پڑھنے والے لوگ ہیں۔قرآن کریم تلاوت کرتے ہیں، اس پر غور کرتے ہیں۔وَأَقَامُوا الصَّلوةَ اور نماز کو قائم کرتے ہیں وَأَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ پھر ان دو باتوں کے بعد خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔اس لئے ان کا وہ جو خرچ ہے وہ خدا کے نزدیک قبولیت پا جاتا ہے اور ان لوگوں کا خرچ کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔مالی قربانی اپنی جگہ ایک اہمیت رکھتی ہے لیکن وہ لوگ جو بنیادی دینی فرائض سے