خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 599
خطبات طاہر جلد 14 599 خطبه جمعه 18 اگست 1995ء رَزَقْنهُمْ سے مراد انسان کو دی گئی تمام صلاحیتیں ہیں سات سو گنا سے زیادہ دینے والے خدا پر توکل کریں ( خطبه جمعه فرموده 18 اگست 1995 ء بمقام بيت الفضل لندن ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ تلاوت کی ۔ حضور انور نے در إِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ كِتُبَ اللهِ وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَأَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ سِرًّا وَ عَلَانِيَةً يَرْجُونَ تِجَارَةً لَنْ تَبُورَ (فاطر : 30) اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ یقیناً وہ لوگ جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس سے وہ خرچ کرتے ہیں۔ رَزَقْتُهُمْ ہر قسم کی وہ نعمتیں یا حوائج ضروریہ جو کچھ بھی ہم ان کو عطا کرتے ہیں اس میں صلاحیتیں بھی شامل ہیں ۔ آنکھیں، ناک، کان، قوت شامہ ، قوت فکریہ، ہر قسم کی صلاحیتیں جن سے انسان پیدا کیا گیا ہے وہ لفظ مِمَّا رَزَقْنُهُمْ کے تابع ہیں کہ جو کچھ ہم نے عطا کیا ہے اس میں سے ہر اس چیز میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔ سِرًّا وَ عَلَانِيَةً چھپ کے بھی اور ظاہر طور پر بھی ۔ يَرْجُونَ تِجَارَةً لَنْ تَبُورَ ایک ایسی تجارت چاہتے ہوئے جو کبھی ہلاک نہیں ہو گی۔ ایسی تجارت جو لامتناہی ہے، جس کا فیض ہمیشہ جاری رہے گا۔ بہت سی دنیا کی تجارتیں پنپتی ہیں ، نشو و نما پاتی ہیں پھر ایک شخص کی زندگی میں نہیں تو اس کی اولادوں کی زندگی میں ہی تباہ و برباد ہو جاتی ہیں۔ کسی کو بھید نہیں ملتا کہ کیا ہوا لیکن یہ ایسی تجارت ہے جس کے متعلق اللہ فرماتا ہے وہ نہ ہلاک ہونے والی ، نہ ضائع ہونے والی،