خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 55 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 55

خطبات طاہر جلد 14 55 خطبہ جمعہ 20 /جنوری 1995ء سے پناہ مانگتے ہیں تو یہ جو تعلق ہے یہ بے لوث تعلق کہلاتا ہے۔مصیبت تو ابھی پڑی کوئی نہیں ، جب مصیبت پڑ جائے اور آپ دوڑے دوڑے جاتے ہیں تو صاف پتا چلتا ہے کہ مصیبت مجبور کر کے گھیر کے خدا کے پاس لے گئی ہے اور مصیبت نہ پڑی ہو اور جائیں اور پھر سوچیں کہ یہ مصیبت پڑ بھی سکتی ہے تو یہ درخواست بھی عرض کر دیں کہ اے خدا اس قسم کی مصیبتوں سے ہمیں بچا تو وہ دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں۔اسی لئے اولاد کے حق میں وہ دعا ئیں زیادہ مقبول ہوتی ہیں جو ان کے پیدا ہونے سے پہلے کی جاتی ہیں اور تعلق باللہ کی خاطر محض اس لئے مانگی جاتی ہیں کہ میرے بچے تیرے رہیں کسی اور کے نہ بن جائیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کو نہیں بھلاتے اور ان کی اولا دیں پھر بھلائی نہیں جاتیں نہ بندوں کی طرف سے بھلائی جاتی ہیں نہ خدا کی طرف سے بھلائی جاتی ہیں۔پھر جب بچپن میں آپ ایسے اثرات دیکھتے ہیں تو وہ وقت ہے تشویش کا اور اگر پیدائش سے پہلے دعائیں نہ بھی مانگی گئی ہوں تو بیماری کے آغاز ہی میں انسان حساس ہو جائے اور احساس کی وجہ یہ ہو کہ اللہ سے تعلق کے معاملے میں بچے دور ہورہے ہیں، وہ تعلق کمزور پڑ رہا ہے تو یہ بھی بے لوث دعاؤں کے دائرے میں آئے گا کیونکہ در حقیقت آپ کی محبت جو بچوں کے لئے ہے اور آپ کی محبت جو اللہ کے لئے ہے یہ دونوں ہم آہنگ ہو جاتی ہیں اور ایسے موقع پر ان بچوں کے حق میں آپ کی دعا ئیں زیادہ اثر دکھا ئیں گی۔تو جب بھی بیماری کے آغاز دیکھیں اس وقت خدا کی طرف متوجہ ہوں اور یہ بھی ممکن ہے اگر غیر اللہ کا رعب آپ کے دل میں نہ ہو۔اگر غیر اللہ کا رعب آپ کے دل میں پڑ جائے تو ان دعاؤں کی توفیق ہی نہیں ملتی۔دل سے وہ ہوک اٹھتی ہی نہیں ہے جو آسمان تک جایا کرتی ہے۔وہ ہوک تب اٹھتی ہے جب انسان خدا کے پیار میں مبتلا ہو اور اس کے برعکس با تیں دیکھے اور اپنا بس نہ چلے پھر وہ آہ دل سے اٹھتی ہے جو ایک مقبول دعا بن کے عرش کے کنگرے ہلا دیا کرتی ہے۔تو اپنی اولاد کو بچپن ہی سے یادرکھیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ بچپن ہی سے اللہ کو یا د رکھیں یا اپنی زندگی میں خدا کو یا درکھیں تو آپ کی اولا د پر بھی وہ یا اثر انداز ہوگی اور آپ کو اچھی تربیت کی تو فیق ملے گی اور پھر آپ کے مرنے کے بعد بھی یہ دعا ئیں کام آئیں گی۔اب یہ جو کل کا مضمون ہے وہ اس دائرے میں آکر اس طرح مکمل ہوتا ہے جب تک آپ زندہ ہیں اس وقت تک تو کل کی فکر کر سکتے ہیں مگر خدا نے تو آپ کو متنبہ کیا ہے کل کے اس انجام سے بھی جو قیامت تک جاری وساری ہے۔اس کل