خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 593 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 593

خطبات طاہر جلد 14 593 خطبہ جمعہ 11 اگست 1995ء میں کھلتے تھے۔یہ ان کے دل کی کیفیت تھی جو انہوں نے بیان کی اپنے لفظوں میں مگر میں ان کو اپنے لفظوں میں بیان کر رہا ہوں۔ایسا عشق تھا۔ایک لمحہ بھی رسول اللہ ﷺ کی رؤیت کا ، آپ کی زیارت کا ضائع نہیں ہونے دینا چاہتے تھے۔پھر یہ کہ باتیں مجھے سنے کا شوق ہے۔لوگوں نے بچپن سے سنی ہوئی ہیں میرے پاس آخری چند سال ہیں تو میں وہ باتیں کیوں ضائع کروں۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے سالوں میں برکت دی اور ان چار سالوں میں جتنی دیر بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہے یعنی صلى الله مسجد کے صحن میں اتناذخیرہ اکٹھا کیا رسول اللہ ﷺ کے کلام کا کہ کسی اور صحابی کو اتنی توفیق نہیں ملی کہ اس کثرت سے آنحضرت ﷺ کی روایتیں بیان کر سکیں اور پھر خدا نے لمبا عرصہ زندہ رکھا کہ وہ ساری باتیں بیان کر سکیں۔تو یہ وہ لوگ ہیں جن میں طاقت نہیں ہے۔کوئی کہہ سکتا ہے طاقت تھی باہر نکلتے تھے، جاتے تھے ، جاسکتے تھے مگر ان کو محبت نے جکڑا ہوا تھا۔یہ لوگ بھی اس میں مراد ہیں بلکہ میرے نزدیک اول طور پر مراد ہیں۔يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَاءَ جاہل ان کو امیر سمجھتا ہے۔اب ان غریبوں کو امیر کیسے سمجھا جا سکتا تھا۔ان کی تو فلاکت ان کی غربت تو ظاہر و باہر تھی۔اس لئے اغنیاء کا ترجمہ یہاں امیر کرنا درست نہیں ہے۔اغنیاء سے مراد ہے ان کو حاجت نہیں ہوتی کسی چیز کی۔یعنی اپنی حاجت کو اپنے چہرے پر ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے۔بعض بھو کے ہیں وہ اپنی بھوک کو ظاہر ہونے دیتے ہیں تا کہ کوئی دیکھے اور پہچانے۔بعض غریب ہیں جو اپنے کپڑوں کے گندے رکھنے سے پھٹے پرانے رکھنے سے اپنی غربت کو ظاہر کر دیتے ہیں۔بعض غریب ہیں جو روزانہ دھو لیتے ہیں، سلائی سلیقے سے کرتے ہیں، سمٹ کر رہتے ہیں، کوشش کرتے ہیں کہ ہماری غربت کا حال ظاہر نہ ہو۔پس اللہ کی خاطر غریب ہو جانے والے بندوں سے کچھ نہیں چاہتے تھے۔اس وجہ سے سب دنیا کے بندوں نے یہ گواہی دی کہ اس کو تو ضرورت ہی کوئی نہیں ، آرام سے بیٹھا ہوا ہے، ہنستا کھیلتا، روزمرہ کی زندگی گزار رہا ہے، اس کو کیا ضرورت ہے۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تَعْرِفُهُمْ بِسِيمُهُم جاہل جو سمجھتے رہیں تو ان کی نشانیوں سے، ان کے چہروں کی علامتوں سے جانتا تھا کہ بھوکے ہیں۔لَا يَسْلُونَ النَّاسَ الْحَافًا کچھ انہوں نے لوگوں سے چمٹ کر مانگا نہیں کہ ہماری ضرورت پوری کرو۔یہ عادت ہی ان کو نہیں تھی۔یہ داحمد و