خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 585 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 585

خطبات طاہر جلد 14 585 خطبہ جمعہ 11 اگست 1995ء نے جتنا ہم سے تقاضا کیا ہے اس تقاضے کی نچلی حد تک پورا نہ کریں بلکہ اس حد میں داخل ہو جا ئیں جو نوافل کی حد ہوتی ہے جس کے بعد صرف فرض پورا نہیں ہوتا بلکہ رضا جوئی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔کم سے کم جب آپ پورا کرتے ہیں تو یہ ایک فرض ہے۔یہ یقین ہو جاتا ہے کہ آپ مجرم نہیں خدا کے حضور اللہ نے آپ کو جو دیا جتنا کم سے کم چاہا آپ نے واپس کر دیا۔بعد میں اس کی مرضی ہے جیسی چاہے جزا دے لیکن اگر آپ اس سے بڑھ کر دیں تو پھر یہ محبت کے سلسلے ہیں۔پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے جو رضا اترتی ہے۔وہ ایک غیر معمولی برکتیں لے کر آتی ہے، مال میں بھی برکت ڈالتی ہے، صحتوں میں بھی برکت ڈالتی ہے، خوشیوں میں برکت ڈالتی ہے، سارا انسانی نظام ہی صحت مند ہو جاتا ہے۔پس اس پہلو سے خدا سے وہ تعلق باندھیں جس میں آپ کا زیادہ سے زیادہ فائدہ ہو اور اس نصیحت پر اگر آپ پاکستان میں آج بھی عمل شروع کر دیں اور اس نصیحت پر اگر جرمنی پورا عمل نہ کرے تو مجھے یقین ہے کہ آپ اگلے سال ان سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔مگر یہ جو دوسری شرط ہے یہ میں پوری نہیں کروانا چاہتا کہ اس نصیحت پر جر منی عمل نہ کرے، وہ کیوں نہ کرے۔اس لئے برابر کی دوڑ ہے اللہ فضل کرے۔دیکھیں کون آگے نکلتا ہے۔کوشش یہ ہونی چاہئے بہر حال کہ جو اعزاز ایک دفعہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا تھا وہ اعزاز ہمیشہ قائم رہے اور کیسے بھی حالات بدلیں ساری دنیا میں ، وہ جماعتیں جن کا سرزمین ہندوستان سے تعلق ہے، مالی قربانی میں کسی دوسرے سے پیچھے نہ رہیں۔اب جو میں فہرست بتارہا ہوں تفصیل نہیں میں بیان کر سکتا لیکن اول جرمنی ہے اور دوسرے نمبر پر پاکستان ، تیسرے نمبر پر امریکہ امریکہ خدا کے فضل سے بہت پیچھے سے آیا ہے اور بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔برطانیہ چوتھے نمبر پر ہے اور کینیڈا پانچویں نمبر پر لیکن بہت پیچھے رہ گیا ہے امریکہ سے۔انڈونیشیا چھٹے نمبر پر۔انڈونیشیا نے بہت ترقی کی ہے ان کے اربوں روپوں کو اگر ہم پاؤنڈوں میں بھی تبدیل کر دیں تب بھی خدا کے فضل سے ان کی چھٹی پوزیشن ہے اللہ کے فضل۔برقرار رہتی ہے اور جو پہلے کہیں بہت پیچھے شمار ہوا کرتا تھا اب بہت آگے بڑھ گیا ہے۔ہندوستان نے بہت ترقی کی ہے پچھلے دور میں ایک دو چار سال کے اندر اور ساتویں پوزیشن پر آ گیا ہے۔ماریشس تعداد میں تھوڑا ہونے کے باوجود مالی قربانی میں بہت آگے ہے اور جاپان فی کس مالی قربانی کے لحاظ سے آج بھی دنیا میں سب سے آگے ہے کیونکہ یہ اس کا نواں نمبر ہے حالانکہ ماریشش، انڈیا، انڈونیشیا