خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 582
خطبات طاہر جلد 14 582 خطبہ جمعہ 11 اگست 1995ء نے قلبی فراخی عطا فرمائی ہے اور پھر مالی فراخی بھی اس کے نتیجے میں بڑھتی چلی جا رہی ہے۔77,58,28,000 روپے تک اب گزشتہ دو سال میں آپ پہنچ گئے ہیں۔یعنی دو قدم اٹھائے ہیں ابھی ، تو اب ایک ارب تک پہنچنے میں دو تین قدم ہی باقی ہیں اور اگر کوئی چھلانگ لگا دے تو پھر اور بات ہے، اچھی بات ہے، وہ بھی ہوسکتا ہے۔اب میں مختصر آپ کو بتاتا ہوں کہ جماعتوں کے لحاظ سے کیا انقلاب پیدا ہو رہا ہے۔کیا ترتیبیں یا اولیت کے لحاظ سے ترتیب کس حد تک بدل رہی ہے۔ایک دو سال پہلے کی بات ہے، یہ غالباً گزشتہ سال کی بات ہی ہے کہ میں نے جماعت پاکستان کو کہا تھا کہ آج پہلی دفعہ میں یہ اعلان کر رہا ہوں کہ جرمنی کی جماعت اب دنیا کی سب جماعتوں سے مالی قربانی میں آگے بڑھ گئی ہے اور آپ کو میں متنبہ کر رہا ہوں کہ ذاتی طور پر میرا دل یہی چاہتا ہے کہ پاکستان اس اعزاز کو ہمیشہ برقرار رکھے۔اگر چہ بہت ہی نا مساعد حالات میں مخالفانہ حالات میں جماعت خدا کے فضل سے قربانی کر کے کبھی ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ پچھلے سال سے پیچھے ہٹ گئی ہو بلکہ ہمیشہ تو قعات سے آگے بڑھتی ہے۔مگر جرمنی کی جماعت کا خمیر بھی دراصل ہندو پاکستان کی مٹی سے اٹھا ہوا ہے اور وہ لوگ نئی جگہ آکر جس طرح بعض دفعہ ایک درخت کی پنیری کو تبدیل کر کے دوسری جگہ پہنچایا جائے تو زیادہ تیزی سے نشو ونما دکھاتا ہے۔پاکستان کی اس مٹی میں جس میں یہ لوگ کھاری زمین کے پودے دکھائی دیا کرتے تھے اور بھاری تعداد ایسی ہی تھی جیسے کلر شور کی اگنے والی بوٹیاں، خشک پھل، خاص پھل نہیں دیتیں۔ایسے مہاجرین کی تعداد ہے جن کا وہاں جماعتی قربانیوں میں عملاً کچھ بھی حصہ نہیں تھا اور یہ بھاری تعداد میں ہیں اور بعض دفعہ دینی خدمات میں بھی بہت پیچھے تھے۔مگر جب خدا کی تقدیر نے ہجرت کے مضمون کے ساتھ تعلق باندھ دیا، ہجرت کا مضمون یہ ہے کہ جب خدا کے نام پر تم ایک جگہ سے ہجرت کر کے دوسری جگہ جاؤ گے تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ فراخی عطا کریں گے، ہر پہلو سے تمہیں برکت دیں گے۔تو یہ کوئی ان کی خوبیاں نہیں ہیں، جس قسم کے بوٹے وہاں تھے وہ ہم نے دیکھے ہوئے ہیں، کلر شور کے اندر جو بوٹیاں اگتی ہیں بہت سے ان میں ایسے تھے، بھاری تعداد، جو ویسے ہی تھے۔نہ تہذیب ، نہ تمدن، نہ نظام جماعت کا احترام، نہ خدمت کا سلیقہ، مالی قربانی بھی تھی تو نام کی تھی۔کچھ ایسے بھی خاندان تھے جو خدا کے فضل سے اچھے تھے ان کو میں مستی کر رہا ہوں لیکن یہاں آ کے کایا