خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 576
خطبات طاہر جلد 14 576 خطبہ جمعہ 4 اگست 1995ء ہیں کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ کسی پیغمبر کو بھی ایسی گالیاں نہیں دی گئیں۔۔۔“ اور یہ حقیقت ہے تاریخ مذاہب پر نظر ڈال کر دیکھ لیں کسی تاریخی حوالے سے یہ بات ثابت نہیں کہ جتنا گند حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مخالف نے بکا ہے اس کا عشر عشیر بھی کبھی پہلے کسی نبی کے متعلق اس طرح بکو اس کی گئی ہو۔فرماتے ہیں: ایسی فحش گالیاں ہوتی ہیں کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ کسی پیغمبر کو بھی ایسی گالیاں نہیں دی گئیں اور میں اعتبار نہیں کرتا کہ ابو جہل میں بھی ایسی گالیوں کا مادہ ہو“۔سبحان اللہ ! کیا عجیب بات ہے۔ابوجہل نے مادے کی حد تک تو سب کچھ کر دیا لیکن اس میں وہ مادہ نہیں تھا خباثت کا جو آج دیکھنے میں آرہا ہے۔جو نمو نے ہم آج دیکھ رہے ہیں اس مادے کے لوگ پہلے تھے ہی نہیں۔یہ انتہا ہو چکی ہے۔مگر ابو جہل کو اگر یہ فرماتے ہیں کہ وہ نہیں دیتا تھا تو اس کی شرافت ہوتی۔اس لئے میں آپ سے کہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام کو غور سے سنا کریں اور بڑے غور سے پڑھا کریں۔ایک دفعہ یہ سمجھ نہ آئے تو دوسری دفعہ پڑھا کریں۔آپ کا ہر لفظ ایک بہت ہی احتیاط کے ساتھ چنا ہوا ایک نگینہ ہوتا ہے جو جہاں بٹھایا جاتا ہے وہیں بیٹھنے کے لائق ہوتا ہے۔اس سے ارد گرد اس کو آپ سرکا نہیں سکتے۔ابو جہل کا مقابلہ تھا یہ کہہ دیتے کہ ابو جہل ایسی گالیاں نہیں دیا کرتا تھا تو صاف پتا چلتا کہ ابو جہل زیادہ بردبار انسان تھا۔شرافت اس میں زیادہ تھی آپ نے فرمایا اس میں مادہ ہی نہیں تھا اتنا۔جہاں تک خباثت کا مادہ تھا اس نے کوئی کمی نہیں کی مگر گندی گالیوں میں یہ خمیر اور ہے اور یہ اسی پلید مٹی سے بنے ہوئے لوگ ہیں۔لیکن یہ سب کچھ سنا پڑتا ہے۔جب میں صبر کرتا ہوں تو تمہارا فرض 66 ہے کہ تم بھی صبر کرو۔“ جب مجھے امام مانا ہے اپنے متعلق میں ایسے صبر سے کام لیتا ہوں تو تمہارا فرض ہے کہ تم بھی صبر کرو۔درخت سے بڑھ کر تو شاخ نہیں ہوتی۔