خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 575
خطبات طاہر جلد 14 575 خطبہ جمعہ 4 اگست 1995ء 66 وہ ایسی راہ اختیار کرے جو تقویٰ کی راہ نہیں ہے۔“ صبر کی راہ سے ہٹنا تقویٰ کی راہ سے ہٹنا ہے۔بلکہ میں تمہیں یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ یہاں تک اس امر کی تائید کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص جماعت میں ہو کر صبر اور برداشت سے کام نہیں لیتا تو یا در کھے کہ وہ اس جماعت میں داخل نہیں ہے۔“ یعنی بے صبرے کا اس جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔وو۔۔نہایت کار اشتعال اور جوش کی یہ وجہ ہوسکتی ہے کہ مجھے گندی گالیاں دی جاتی ہیں۔۔۔“ اب ایک اور بہت ہی پیاری توقع اپنی جماعت سے جو علم پر بنی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بتا رہے ہیں کہ احمدی اپنی وجہ سے بھی بعض دفعہ جوش میں آ جاتے ہیں مگر ” نہایت کار آخری جو ابتلاء ان پر در پیش آتا ہے وہ اس وقت آتا ہے جب مجھے گندی گالیاں دی جاتی ہیں، اس وقت کوئی احمدی برداشت نہیں کر سکتا تو ” نہایت کار کے لفظ نے ایک عجیب نقشہ کھینچ کر رکھ دیا ہے جماعت کا۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہاں تک نظر ہے۔فرمایا چلو وہاں تک ہوگا نہ پھر۔میں جانتا ہوں کہ تمہاری کیا حالت ہوتی ہے۔تم اس معاملہ کو خدا کے سپر د کر دو تم اس کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔میرا معاملہ خدا پر چھوڑ دو میری خاطر آگے آ کر صبر کے پیمانے تو ڑ کر وہاں قدم نہ رکھو جہاں قدم رکھنے کے تم مجاز نہیں ہو جس کی اجازت نہیں ہے۔فرمایا میرا معاملہ، میرا معاملہ خدا پر چھوڑ دو۔۔۔تم ان گالیوں کو سن کر بھی صبر اور برداشت سے کام لو۔تمہیں کیا معلوم ہے کہ میں ان لوگوں سے کس قدر گالیاں سنتا ہوں۔“ تم چند گالیاں سن کر آپے سے باہر ہو جاتے ہو بعض دفعہ تمہیں کیا پتا میں کتنی سنتا ہوں۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ گندی گالیوں سے بھرے ہوئے خطوط آتے ہیں اور کھلے کارڈوں میں گالیاں دی جاتی ہیں۔برنگ خطوط آتے ہیں جن کا محصول بھی دینا پڑتا ہے اور پھر جب پڑھتے ہیں تو گالیوں کا طومار ہوتا ہے ایسی فحش گالیاں ہوتی