خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 574
خطبات طاہر جلد 14 574 خطبہ جمعہ 4 اگست 1995ء کار ہو تیں لیکن صبر نے بڑے غالب دشمن کے شر سے انسان کو بچالیا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ ال والسلام کوئی مبالغہ آمیزی سے کام نہیں لے رہے، بہت گہری حقیقت ہے کہ وو۔۔۔صبر کا ہتھیار ایسا ہے کہ تو پوں سے وہ کام نہیں نکلتا جو صبر سے 66 نکلتا ہے۔صبر ہی ہے جو دلوں کو فتح کر لیتا ہے۔۔۔“ الصلوة ایک زائد بات اس میں یہ ہے کہ تو ہیں دلوں کو فتح نہیں کیا کرتیں۔وہ جسموں کو مارتو دیتی ہیں اور ایک انسان کی عزت کو خاک میں تو ملا دیتی ہیں مگر دل نہیں جیتا کرتیں۔”۔۔۔یقیناً یاد رکھو کہ مجھے بہت ہی رنج ہوتا ہے جب میں یہ سنتا ہوں کہ فلاں شخص اس جماعت کا ہو کر کسی سے لڑا ہے۔۔۔“ اس جماعت کا ہو کر کسی سے لڑا ہے۔دیکھیں کیسا اپنائیت کا اظہار ہے اور بلند تو قعات کو ایک چھوٹے سے جملے میں کس وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیا ہے۔ہماری جماعت کا لڑ پڑتا ہے چھوٹی سی باتوں پر۔فرمایا مجھے اس کا بہت رنج پہنچتا ہے۔۔۔۔اس طریق کو میں ہرگز پسند نہیں کرتا اور خدا تعالیٰ بھی نہیں چاہتا کہ وہ جماعت جو دنیا میں ایک نمونہ ٹھہرے گی۔۔۔“ اب ٹھہرنے کے لئے پیدا کی گئی ہے نہیں فرمایا۔فرمایا ٹھہرے گی۔اس بات میں قطعاً شک نہیں ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کہ عارضی انفرادی کمزوریوں کے باوجود لازماً یہی وہ جماعت ہے جس نے تمام دنیا میں نمونہ بننا ہے تو فرمایا کہ 66 ”خدا تعالیٰ بھی نہیں چاہتا کہ وہ جماعت دنیا میں ایک نمونہ ٹھہرے گی۔“ اب جو نمونہ ٹھہرے گئی کا محاورہ ہے یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت پر ایک عظیم گواہ ہے۔ورنہ ایک شخص اپنے نفس سے جو باتیں کرتا ہے وہ یہ بات نہ کہے گا کہ ٹھہرے گی وہ کہے گا کہ خدا تعالیٰ یہ پسند نہیں کرتا کہ جس کو نمونہ بنانے کے لئے قائم کیا گیا ہے وہ اس طرح میدان چھوڑ جائے اور صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دے۔آخری فتح پر کامل یقین ہے، نظر دور تک ہے۔فرمایا یہ تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ یہ جماعت صبر کا نمونہ نہ بنے۔عارضی انفرادی غلطیوں سے صدمے تو مجھے پہنچتے ہیں مگر یہ یقین اپنی جگہ کامل ہے کہ لازماً یہ جماعت ایک دن صبر کا نمونہ بن کر ابھرے گی۔