خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 573 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 573

خطبات طاہر جلد 14 بات کی بار بار نصیحت کروں۔وو 573 خطبہ جمعہ 4 اگست 1995ء۔۔۔بار بار ہدایت کروں کہ ہر قسم کے فساد اور ہنگامے کی دو جگہوں سے بچتے رہو اور گالیاں سن کر بھی صبر کرو۔بدی کا جواب نیکی سے د اور کوئی فساد کرنے پر آمادہ ہو تو بہتر ہے کہ تم ایسی جگہ سے کھسک جاؤ اور نرمی سے جواب دو۔“ اب یہ جو کھسکنا لفظ ہے یہاں بہت برحل استعمال ہوا ہے۔دراصل یہ کھسکنا کسی بدنی خطرے سے بچنے کی خاطر نہیں ہے بلکہ اشتعال سے بچنے کی خاطر ہے۔یہ مضمون ہی وہ بیان ہو رہا ہے۔فرمایا ہے جب دشمن گندی زبان استعمال کرتا ہے ، ظالمانہ حملے کرتا ہے تو تم بعض دفعہ دیکھتے ہو کہ شاید تم میں اب طاقت نہ رہے کہ زیادہ صبر کر سکو اور ہوسکتا ہے تمہارا پیمانہ لبریز ہو جائے اور تم بھی جواباً ویسی ہی کارروائی شروع کر دو۔تو ایسی صورت میں کھسکنے کا مطلب یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہے خاموشی سے الگ ہو جاؤ۔یعنی ایسے محل ہی سے گریز کرو، ایسے مقام سے اجتناب کرو اور الگ ہونے کی کوشش کرو اور کھسکنے میں آہستگی بھی پائی جاتی ہے، تیزی سے بھاگنا نہیں ہے تیزی سے بھاگنے والے کوکھسکنے والا نہیں کہتے۔بھاگنے کے ساتھ خوف شامل ہے اور کھسکنے کے ساتھ ایک سلیقہ، طریقہ ہے کہ خاموشی سے، آہستہ سے نکل جاؤ وہاں سے بھاگ کر نہیں جانا اس میں بھی بے غیرتی ہے اور بزدلی ہے اور مومن بے غیرت اور بز دل نہیں ہوا کرتا۔اور نرمی سے جواب دو۔( جواب دینا ہے نرمی سے دینا ہے ) با رہا ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص بڑے جوش کے ساتھ مخالفت کرتا ہے اور مخالفت میں وہ طریق اختیار کرتا ہے جو مفسدانہ طریق ہو جس سے سنے والوں میں اشتعال کی تحریک ہولیکن جب سامنے سے نرم جواب ملتا ہے اور گالیوں کا مقابلہ نہیں کیا جاتا تو خودا سے شرم آجاتی ہے اور وہ اپنی حرکت پر نادم اور پشیمان ہونے لگتا ہے۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ صبر کو ہاتھ سے نہ دو۔صبر کا ہتھیار ایسا ہے کہ تو پوں سے وہ کام نہیں نکلتا جو صبر سے نکلتا ہے۔“ بسا اوقات ایسے خوفناک قتال سے انسان صبر کے ذریعے نجات پاتا ہے جہاں تو ہیں بے