خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 557 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 557

خطبات طاہر جلد 14 557 خطبہ جمعہ 28 جولائی 1995ء کے تقاضے کے خلاف ہوئی، میں اپنا بدلہ تو اتار لوں گا مگر میرے بے کس اور نہتے اور دفاع سے عاری بھائیوں کا کیا بنے گا جن پر دشمن میرے بدلے اتارے گا۔اس خیال سے جو صبر کرتا ہے وہ بھی اللہ کی خاطر صبر کرتا ہے۔پس صبر کا مضمون اس غصے کے دبانے سے بھی تعلق رکھتا ہے مگر صبر کا مضمون رحم سے بھی تعلق رکھتا ہے۔بے انتہا رحم کے نتیجے میں انسان صبر کرتا ہے اور رحم کے نتیجے میں جو صبر ہوتا ہے جانتا ہے کہ یہ لوگ ظالم ہیں، خدا کا عذاب ان کو پکڑلے گا اگر غصہ ہو تو انسان کہے گا اچھا پھر ٹھیک ہے جاؤ جہنم میں تم مجھ سے جو کچھ کر رہے ہو اس کی سزا ضرور پاؤ گے مگر رحم والا انسان یہ جذ بہ نہیں دکھاتا، یہ رد عمل نہیں دکھاتا۔وہ تو صبر کرتا ہے اور سوچتا ہے کہ میں نے تو صبر کیا اب خدا ان سے بدلے لے گا اور جب یہ سوچتا ہے کہ خدا ان سے بدلے لے گا تو اس کا دل رحم سے پگھلنے لگتا ہے۔وہ کہتا ہے میں تو ان کو بچانے کے لئے آیا تھا، ان کو ہلاک کرنے کے لئے تو نہیں آیا تھا۔یہ وہ مضمون ہے جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے بیان ہوا ہے اس لئے سب سے بڑا صبر کرنے والا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبیا: ۱۰۸) بھی بن گیا بلکہ رَحْمَةً لِلْعَلَمِینَ تھا تو اس کا صبر خدا کی نظر میں قدر کے لائق ٹھہرا۔تمام بنی نوع انسان کے غموں کی خاطر وہ حزیں ہوتا رہا، دل اس کا دکھوں میں مبتلا ہوتا رہا اور ان دکھوں پر صبر کی تلقین اللہ فرما تا رہا۔یہ ہے صبر کا مضمون جو اپنے منتہی کو پہنچتا ہے اور ایسے صابر رسول کی تیاری مدتوں پہلے اس بیابان عرب میں مکے کی وادی میں کی گئی تھی جبکہ وہ جدا مجد جس کی کوکھ سے آپ نے پیدا ہونا تھا اس کے صبر کا خدا نے ایک ایسا نمونہ ہمارے لئے محفوظ کر دیا کہ جب اس صبر کے نمونے پر نظر پڑتی ہے تو دل آج بھی عش عش کر اٹھتا ہے اور دل اور روح کی گہرائیوں سے اس پر سلام اٹھنے لگتے ہیں، دعائیں نکلتی ہیں کہ اللہ ایسے وجود پر ہمیشہ سلامتی بھیجے اور آج تک ہمیشہ حج کے موقع پر اس کے صبر کی یادیں تازہ کی جاتی ہیں اور وہ نمونے پھر بھی دنیا میں پھیلائے جارہے ہیں۔اس لئے کہ وہ صبر تھا جس کے بعد اس صبر کے نتیجے میں خدا تعالیٰ نے صبر عظیم پر فائز انسان کو پیدا فرمانا تھا اور اس مضمون کو بڑھا کر اپنے منتہی تک اپنے معراج تک پہنچانا تھا۔پس حضرت اسماعیل کے حوالے سے میں اس خطبے کو ختم کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعَى قَالَ يُبْنَى إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ