خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 556 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 556

خطبات طاہر جلد 14 556 خطبہ جمعہ 28 جولائی 1995ء صلى الله اے محمد ، صبر کر۔اللہ فرماتا ہے اللہ جانتا ہے کہ تمام تر تو خدا کی خاطر صبر کرنے والا ہے مگر مشکل یہ ہے کہ انتارحم دل ہے کہ اب دوسروں کے لئے حزیں رہتا ہے دوسروں کے لئے ہر وقت دل میں غم محسوس کرتا ہے اور یہاں وَ لَا تَحْزَن کا فقرہ ہر گز حکم کے معنوں میں نہیں ہے بلکہ ایک پیار کا اظہار ہے کہ اللہ کی تیرے حزن پر نظر ہے۔ورنہ اگر یہ حکم ہوتا تو محمد رسول اللہ ﷺ اسی وقت حزن کو چھوڑ دیتے مگر آپ تو مسلسل اسی حزن میں مبتلا رہے یہاں تک کہ جب آپ کے سر کے بال سفید ہوئے تو آپ نے ان بالوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ عمر نے میرے بال سفید نہیں کئے ، سورہ ہود میں جب میں نے ان قوموں کے حالات پڑھے جن پر خدا کا غضب نازل ہوا تو ان کے غم نے میرے بال سفید کر دیئے۔پس وہ لوگ جنہوں نے آئندہ آنا تھا جو محمد رسول اللہ ﷺ کی دشمنی کے نتیجے میں سزا پانے والے تھے، جن کے عذاب کی خبریں محمد رسول اللہ ﷺ کو دی گئی تھیں ان کے غم پر آپ کا صبر ہے جس کی بات ہورہی ہے۔ان کی تکلیفوں پر آپ کا صبر ہے جس کی بات ہو رہی ہے۔پس یہ صبر کا مضمون ایک بالکل اور قسم کا مضمون ہے جو اس سے پہلے دنیا نے نہیں دیکھا تھا اور پھر اس مضمون کو آپ باندھیں اس صبر کے ساتھ جو اسماعیل نے دکھایا تھا تو تب یہ مضمون مکمل ہو جاتا ہے۔دنیا کا سب سے بڑا صبر کرنے والا انسان حضرت محمد رسول الله الله ، دنیا کا سب سے زیادہ رحم کرنے والا انسان دنیا کا سب سے بڑا داعی الی اللہ بنایا گیا اور دعوت الی اللہ میں صبر کی اس لئے بھی ضرورت ہے کہ آپ دشمن کے شر سے، اللہ کے غضب سے ، حفاظت میں رہیں اور خدا تعالیٰ کا پیار آپ کی حفاظت میں ان کے گرد فصیلیں کھینچ دے۔مگر صرف اس غرض سے نہیں بلکہ اس لئے کہ وہ صبر جو محمد رسول اللہ ﷺ کا صبر ہے کہ اپنے ساتھ رحم کے جذبے رکھتا ہے۔غصے نہیں رکھتا اور یہ وہ صبر ہے جو دوسرے صبر وں سے محمد رسول اللہ ﷺ کے صبر کو متاز کر رہا ہے ورنہ عام حالات میں صبر کا ایک یہ بھی معنی ہوتا ہے اور اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ غصے سے کسی نے کوئی بات کہی ، چہرے پر تھپڑ مار دیا، کوئی گالی دی ، پتھراؤ کیا، دل غیظ و غضب میں کھول رہا ہے مگر انسان صبر کر رہا ہے۔بسا اوقات ایسا صبر بزدلی کی علامت ہوتا ہے اور اس صبر کے کوئی بھی معنے نہیں ، یہ مومن کا صبر نہیں ہے۔بسا اوقات ایسا صبر اللہ کی خاطر ہوتا ہے یا اپنے مظلوم بھائیوں کی خاطر ہوتا ہے کہ اگر میں نے کوئی ایسی بات کی جو حکمت صلى الله