خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 555
خطبات طاہر جلد 14 555 خطبہ جمعہ 28 جولائی 1995 ء کر محمد رسول اللہ والے کے دل میں ان کا دکھ تھا۔بیٹے پیدا ہوئے ایک کے بعد دوسرا گزرتا گیا اور دشمن طعنے دیتا رہا کہ ابتر ہے، ابتر ہے، ابتر ہے۔ایک طرف آپ کی محبت کرنے والی طبیعت کو اپنے معصوم بچوں کی جدائی کا غم ، دوسری طرف طعنہ دینے والوں کی تکلیفیں مسلسل صبر کے ساتھ ، زبان پر شکوہ لائے بغیر اس بات کا تذکرہ کئے بغیر ، خدا کی خاطر صبر پر قائم رہے۔یہاں تک کہ ایک دفعہ ایک صلى الله عورت جو اپنے بیٹے کی قبر پر رو رہی تھی اور واویلا کر رہی تھی اس کے پاس سے جب آنحضرت نے کا گزر ہوا تو آپ نے فرمایا بی بی صبر کر۔تو اس نے جوابا کہا ( بخاری کتاب الجنائز ) اس کو پتا نہیں تھا کہ الله کون ہے، اس نے کہا جس کا بیٹا مرے اس کو پتا ہوتا ہے۔اس کو کیا پتا تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بیٹے ایک کے بعد دوسرے فوت ہوتے چلے گئے لیکن آپ نے اس کو یہ نہیں کہا۔آپ وہاں سے روانہ ہوئے۔بعد میں کسی نے کہا تو کیا بات کر بیٹھی ہے۔کس سے بات کی ہے۔جب اس کو پتا چلا کہ یہ محمد صلى الله رسول اللے تھے تو دیوانہ وار دوڑتی ہوئی پیچھے گئی اور کہا یا رسول اللہ ﷺ میں صبر کرتی ہوں۔آپ نے فرمایا صبر کا تو وہ وقت ہوتا ہے جبکہ صدمہ اپنی انتہا کو پہنچا ہو۔گویا محمد رسول اللہ ہم مسلسل ان صدمات سے دو چار ہوتے ہوئے ان کے دکھوں میں سے گزرتے ہوئے اس طرح صبر کرتے رہے کہ اگر یہ واقعہ تاریخ میں محفوظ نہ ہوتا تو ہمیں پتا بھی نہ چلتا کہ ہر بیٹے کی جدائی پر آپ کو کیسا صدمہ ہوا کرتا تھا۔مگر اللہ کی خاطر صبر کرتے تھے۔پس یہ آیت واصبر ہرگز وہ معانی نہیں رکھتی جو بعض لوگ صلى الله سمجھتے ہیں کہ گویا محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ تو بھی صبر کر اور استقلال کے ساتھ دکھوں کو برداشت کر۔یہ معنی ہر گز نہیں کیونکہ معابعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللهِ تجھے ہم صبر کا کہہ رہے ہیں جبکہ خدا جانتا ہے کہ تیرا صبر تو تمام تر اللہ کی خاطر ہے اور پہلے ہی سے تو صبر کی حالت میں زندگی گزار رہا ہے۔پھر یہ صبر کس پر ہے۔فرمایا۔وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِي ضَيْقٍ مِمَّا يَمْكُرُونَ ) (النحل : ۱۲۸) کہ تو اپنے دکھوں پر تو صبر کرتا ہی ہے مگر ان کو جن کو خدا کے عذاب نے آپکڑنا ہے جن کے متعلق تو بد انجام دیکھ رہا ہے ان کا بھی غم دل کو لگا بیٹھا ہے اور یہ اور طرح کا صبر ہے جس کی بات ہو رہی ہے۔فرمایا ان کے بدانجام کو دیکھ کرصبر کر اور ان کی خاطر اتنا غم محسوس نہ کر کہ گویا تو اپنے آپ کو ہلاک کر لے۔پس صبر کا مضمون ایک نئے آسمان میں بلند ہو چکا ہے نئی رفعتیں حاصل کر چکا ہے یہ کہہ کر کہ