خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 554 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 554

خطبات طاہر جلد 14 554 خطبہ جمعہ 28 جولائی 1995ء مجبور ہو جائے تو اتنا ہی بدلہ لے جتنا اس سے زیادتی کی گئی ہے۔اگر انصاف کے ساتھ اتناہی بدلہ لیا جائے تو بسا اوقات اس کا یہ بھی فائدہ پہنچتا ہے کہ سوسائٹی جو حالات سے واقف ہوتی ہے وہ باتیں شروع کر دیتی ہے کہ اس نے کیا تو ہے یہ لیکن اس کے ساتھ ایسا ہی ہوا تھا اور اس نے بدلہ دیتے وقت ذرا بھی زیادتی نہیں کی چنانچہ پھر گر دو پیش اس کے حق میں ایک رائے قائم ہونی شروع ہو جاتی ہے اس کی تائید میں آواز میں اٹھنےلگتی ہیں کیونکہ وہ انصاف پر قائم رہا اور ایسے واقعہ بہت سے امور مجھ تک پہنچتے ہیں یعنی یہ فرضی بات نہیں کہ کبھی کسی نوجوان سے غلطی ہوئی اور اس نے زیادتی میں تجاوز نہیں کیا تو ارد گرد کے لوگ بیچ میں داخل ہوئے اور اس شرارت کو بڑھنے اور پھیلنے سے روک دیا۔مگر حقیقی بات جو دائم یا درکھنے کے لائق ہے وہ یہی ہے وَلَبِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصُّبِرِيْنَ اگر تم صبر سے کام لو گے تو یہ صبر کرنے والوں کے لئے بہت بہتر ہے۔صلى الله اب اس کے بعد یہ مضمون اپنی انتہا کو پہنچایا جاتا ہے۔آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاصْبِرُ اے محمد و تو صبر کر۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر کچھ ایسے بھی لمحے گزرے تھے جب خدا کو یہ کہنا پڑے کہ صبر سے کام لینا،صبر کا دامن نہ چھوڑنا۔اگر کوئی یہ ترجمہ کرے تو بالکل غلط ہے کیونکہ یہ آیت کریمہ خود اس مضمون کو آگے کھول رہی ہے اور یہ غلط ترجمہ کرنے سے جو بعد میں انتہائی گہرے حکمت کے موتی اس آیت میں چھپے ہیں ان سے آپ کی نظر محروم رہ جائے گی ، وہاں تک پہنچ نہیں سکے گی۔آنحضرت ﷺ تو صبر کے ساتھ پیدا کئے گئے تھے۔بہت بچپن ہی میں آپ کی فطرت میں صبر گوندھا گیا تھا۔نہایت دردناک حالات سے پے بہ پے گزرے۔باپ کا صدمہ ایسا کہ کبھی اس کا منہ نہ دیکھا۔پیدا بعد میں ہوئے اور باپ کی شفقت سے محروم ہی پیدا ہوئے ، ماں کا صدمہ ایسا کہ جب محبت کی عمر کو پہنچے تو ماں کا سایہ بھی سر سے اٹھ چکا تھا۔جس دادا نے پالا وہ بھی چھوٹی عمر میں چھوڑ کر چلا گیا اور پھر خدا تعالیٰ نے ایسے وقت پر آپ کو اس منصب پر فائز کر دیا کہ جو خاندان کی معمولی ہمدردیاں تھیں وہ بھی ہاتھ سے جاتی رہیں۔سب قریبی دشمن ہو گئے اور خود صبر سے ایسے آزمائے گئے ذاتی طور پر کہ جن صحابہ نے آپ سے محبت کی ان سے بڑھ کر آپ نے محبت کی اور ان سب صحابہ کی تکلیفیں بھی برداشت کرنی پڑیں۔بعض صحابہ آ کر شکایت کرتے تھے یا رسول اللہ ﷺ ہم سے یہ ہو گیا۔ان کو علم نہیں تھا کہ ان کے دلوں سے بڑھ صلى الله