خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 552
خطبات طاہر جلد 14 552 خطبہ جمعہ 28 جولائی 1995ء مراد یہ نہیں ہے کہ کوئی تکلیف بھی تمہیں نہیں پہنچے گی۔اگر یہ معنی لئے جائیں تو تاریخ اسلام بالکل بے معنی دکھائی دے گی۔آنحضرت مے سے بڑھ کر صبر کرنے والا اور تقوی کرنے والا اور کوئی وجود نہیں تھا۔اس کے باوجود آنحضرت ﷺ کو بعض تکلیفیں پہنچتی رہیں اور اگر تکلیفیں پہنچیں ہی نہ تو صبر کا پھر کیا تعلق ہوا۔صبر کا لفظ تو بتا رہا ہے کہ کچھ تکلیفیں ضرور پہنچیں گی۔پس يَضُرُّكُمُ كَيْدُهُمْ شَيْئًا سے مراد یہ ہے کہ تمہارے مقاصد کا کوئی نقصان نہیں کر سکیں گے۔جن عظمت کی راہوں پر تم گامزن ہوکوئی ان کی شرارت تمہاری راہ نہیں روک سکے گی تمہارے قدم نہیں تھام سکے گی تم مسلسل آگے بڑھتے رہو گے اور جو دکھ تمہیں پہنچے گا اس کے مقابل پر فضل اتنے نازل ہورہے ہوں گے کہ وہ دکھ تمہیں بالکل بے معنی اور بے حقیقت سا دکھائی دے گا، یوں لگے گا جیسے کانٹا سا چھ گیا ہے اور یہی صورت حال ہے جو اسلام کے دور اول کی تاریخ ہمارے سامنے کھول کر پیش کر رہی ہے۔آنحضرت ﷺ اور آپ کے غلاموں نے صبر کے عظیم نمونے دکھائے اور تقوی کی باریک تر راہوں پر گامزن رہے اور بڑے صبر کے ساتھ تقوی کے ساتھ چمٹے رہے اور اس بڑی وسیع جد و جہد میں جو قرآن کے ذریعے بھی جاری تھی اور جہاد اکبر بھی مسلسل چل رہا تھا اور قتال کے ذریعے بھی جاری تھی اور جہاد اصغر بھی مسلسل جاری تھا اور نفس کی تربیت کے ذریعے بھی جاری تھی۔پس یہ عظیم جد و جہد جو تمام زندگی کے دائروں پر پھیلی پڑی تھی اس میں مسلسل انہوں نے صبر سے کام لیا اور تقویٰ پر گامزن رہے۔اس کے نتیجے میں جو ان کو تکلیفیں پہنچی ہیں خدا کے فضلوں کے مقابل پر ایسی حقیر اور بے معنی دکھائی دیتی ہیں کہ اس کے متعلق اگر موازنہ کر کے دیکھیں تو آپ کہہ سکیں گے کہ کچھ بھی نہیں ہوا۔کسی کروڑ پتی کا ہزار روپیہ کا نقصان ہو جائے تو نقصان تو ہے مگر وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس غم میں ہلاک ہو جائے کہ میرے ایک ہزار روپے ضائع ہو گئے۔ہوسکتا ہے کروڑ ہی ضائع ہو جاتے۔تو وہ ہلکی سی تخفیف کی نظر ڈال کر دیکھے گا ہزار روپے کا کیا فرق پڑتا ہے۔کچھ بھی نہیں ، مجھے تو کوئی بھی نقصان نہیں ہوا۔پس یہ ان کی نفسیاتی کیفیت ہے جو بیان کی جارہی ہے۔یہ مراد ہرگز نہیں ہے کہ تمہیں کسی قسم کی کوئی اذیت نہیں پہنچے گی اگر اذیت نہ پہنچنی ہوتی تو صبر کا مضمون مذکور ہی نہ ہوتا۔صبر کے مضمون کا کوئی اس بات سے تعلق ہی نہ ہوتا۔پس قرآن کریم کا وہی معنی کیا جائے گا جو حضرت اقدس محمد مصطفیٰ