خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 543 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 543

خطبات طاہر جلد 14 543 خطبہ جمعہ 28 جولائی 1995ء دکھاؤ گے وَتَذْهَبَ رِيحُكُم اور تمہارے رعب کی جو ہوا بندھی ہوئی ہے وہ جاتی رہے گی۔واصبروا اور صبر کرو صبر سے کام لو۔یہاں صبر کے دو معنے ہیں دونوں معنوں ہی میں یہاں یہ اطلاق پاتا ہے اول یہ کہ دشمن کے مقابل میں صبر سے کام لو۔دوسرے ان امور میں صبر سے کام لوجن کے نتیجے میں تم پھٹ جایا کرتے ہو۔ایک دوسرے سے تعلقات ایسے قائم رکھو کہ اگر کسی طرف سے زیادتی ہو بھی جاتی ہے تب بھی صبر کے نمونے دکھاؤ تا کہ تمہارے آپس کے اختلاف نہ بن جائیں اور وہ اختلاف بڑھ نہ جائیں کیونکہ جہاں الہبی جماعتوں میں اختلاف پیدا ہو جاتے ہیں وہاں ضرور ان کی طاقت ختم ہو جاتی ہے، غیر سے مقابلے کی بجائے وہ آپس میں ایک دوسرے سے مقابلے کرنے لگتے ہیں اور اس کا لازمی نتیجہ بزدلی ہے۔پس جہاں تک میں جماعتی حالات پر نظر رکھتا ہوں قطعی طور پر اس بات میں ایک ذرہ بھی شک نہیں دیکھتا کہ جہاں بھی جماعتیں آپس میں پھٹی ہیں وہاں ساری برکتیں اٹھ گئی ہیں۔وہیں بزدلی پیدا ہوئی ہے، وہاں سے دعوت الی اللہ کا مضمون اٹھ گیا ہے۔جیسے پرندہ گھونسلے کو چھوڑ دے اس طرح دعوت الی اللہ ان لوگوں کے گھروں سے غائب ہو جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کی رضا کی بجائے اس کی ناراضگی کا موجب بن جاتے ہیں اور صبر کا یہاں جو مضمون ہے وہ خاص طور پر قابل توجہ۔ہے۔جب بھی ان لوگوں کے اختلافات کی تحقیق کی جاتی ہے تو جواباًیہ کہتے ہیں فلاں نے ہم پر زیادتی کی اور جب اس فلاں سے پوچھتے ہیں تو پہلے کی طرف انگلی اٹھاتا ہے اور کہتا ہے کہ اس نے زیادتی کی ہے اور جب بھی جماعتی کوششوں کے نتیجے میں ان میں صلح کروانے کی کوشش کی گئی تو یہ بحث کبھی ختم نہیں ہوئی۔ان بحثوں میں پڑ کر آج تک میں نے کبھی تسلی بخش نتیجہ نکلتے دیکھا نہیں۔مسلسل سالہا سال سے ایک دوسرے پر الزام تراشیاں جاری رہتی ہیں اور ایک بھی فریق یہ نہیں مانتا کہ قصور میرا تھا اس کا نہیں تھا۔پس ایسی صورت میں جب بھی کامیابی ہوئی ہے وہاں اس وقت ہوئی ہے جب اَطِيْعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ (النساء: 60) کا مضمون چلا ہے۔بعض دفعہ آنحضرت ﷺ کی نمائندگی کا حوالہ دے کر یہ بتا کر کہ اللہ تعالیٰ نے آج مجھے آپ کی نمائندگی کے منصب پر فائز فرمایا ہے میں آپ سے کہتا ہوں کہ ان جھگڑوں کو چھوڑ دیں اور بھول جائیں۔جہاں دلوں میں اطاعت کا جذبہ تھا، جہاں اللہ کی محبت اس حد تک غالب تھی کہ