خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 536
خطبات طاہر جلد 14 536 خطبہ جمعہ 21 / جولائی 1995ء اور پھر تکرار سے تمہیں بتاتا ہے تمہیں دعوت دینے والا ہر دوسری چیز سے بڑا ہے۔اللہ اکبر، الله 66 6 اکبر “ پھر کہتا ہے ” حی علی الصلوۃ “ جب یہاں تک پہنچتا ہے مگر اس سے پہلے اشهد ان لا 66 اله الله، اشهد ان محمد رسول الله “ یہ دو اعلان ہونے کے بعد پھر بلایا جا رہا ہے پوری تمہید قائم کر دی گئی ہے "حی على الصلواة، حي على الصلواة اور جن کو سمجھ نہیں آتی کہ نماز کی طرف کیوں آئیں ساتھ ہی بیان فرما دیتا ہے حی علی الفلاح ، حی علی الفلاح تمہیں کامیابی کی طرف بلا رہے ہیں ،تمہیں ہم نجات کی طرف بلا رہے ہیں۔اس لئے اس آواز کو سننے کے بعد دور کھڑے رہ جانا یا پرے ہٹ کر بیٹھ رہنا بڑی سخت محرومی ہے ، ایسی محرومی جو انسان کو مجرم بنا دیتی ہے۔پس نماز کو قائم کریں۔دوسروں کو بھی بلائیں خود بھی حاضر ہوں اپنے بچوں کی بھی تربیت کریں۔جو مہمان آپ کے گھروں میں بیٹھے ہیں وہ بسا اوقات مجلس کے شوق میں بعض دفعہ دو دو بجے تک رات جاگتے ہی رہتے ہیں اور اس کے بعد سارے آرام سے سو جاتے ہیں کہ اب تو تھکے ہوئے ہیں۔پھر میزبان یہ سمجھتا ہے کہ اونچی آواز نہ آئے ، آنکھ نہ کھل جائے اگر وہ نمازی بھی ہو تو آہستہ آہستہ اٹھتا ہے۔یہ مہمان نوازی نہیں ہے، رزق کریم نہیں ہے جو پیش کر رہا ہے۔اگر وہ معزز مہمان نواز، وہ مہمان نواز ہے جو خدا کی نمائندگی کر رہا ہے توحى على الصلواۃ اور حی علی الفلاح کو بھول کر وہ خدا کی نمائندگی کا حق ادا نہیں کر سکتا۔اس کا فرض ہے کہ اگر وہ یہ نہیں کہہ سکتا مہمانوں کو کہ سو جاؤ، وہ سمجھتا ہے کہ ان کی دل آزاری ہوگی تو اٹھنے کا تو کہہ سکتا ہے اٹھانے میں کوئی دل آزاری نہیں اگر وہ نماز کے وقت کا اٹھانا ہے بلکہ سنت رسول کے مطابق ہے۔قطع نظر اس کے کہ کوئی تھکا ہوا ہے ، کتنے دنوں کا جاگا ہوا ہے، جب نماز کا وقت آتا ہے تو جگانا سنت انبیاء ہے اور قرآن کریم جگانے ہی کی ہدایت کرتا ہے اور صبح کی نماز میں یہ اعلان بھی داخل فرمالیا ہے کہ الصلواۃ خير من النوم الصلواة خير من النوم دیکھو دیکھو نماز نیند سے بہت بہتر ہے۔یہاں نیند کا فرق نہیں کیا کہ تھوڑی نیند سے بہتر ہے یا زیادہ نیند سے بہتر ہے۔ہر نیند سے بہتر ہے۔خواہ کیسے ہی تھکے ہوئے کی نیند کیوں نہ ہو۔تو کم سے کم یہ تو کریں کہ نماز کے وقت دروازے کھٹکھٹائیں اپنے مہمانوں کے کہ میاں پہلے تم اپنے شوق سے جاگے تھے اب خدا کی خاطر جا گو۔جس کی خاطر یہ سفر اختیار کیا تھا اس سے ملنے کے لئے اٹھو اور نمازوں کو اپنے گھروں میں قائم کریں تو پھر