خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 532 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 532

خطبات طاہر جلد 14 532 خطبہ جمعہ 21 / جولائی 1995ء ہیں کہ فلاں شخص کا یہ حال تھا اس لئے ہم نے یہ کام کیا۔میں نے کہا آپ کو کیسے پتا چلا؟ اس نے خود بتایا پتا کیوں نہ چلے اور پھر یہ لوگ بعض دفعہ بلاآخر پیشہ ور ہو جاتے ہیں اور خدا سے تو کل کا تعلق کاٹ لیتے ہیں۔ایسی صورت میں آنحضرت ﷺ نے جو انذار پیش کیا ہے وہ یہ ہے کہ قیامت کے دن ان لوگوں کے چہرے ایسے ہوں گے کہ چمڑے ہڈیوں سے لگے ہوں گے اور ان کے درمیان کوئی گوشت نہیں ہوگا۔جب پوچھا جائے گا یہ کیا بات ہے۔تو پتا چلے گا کہ وہ اپنی غربت لوگوں کے سامنے پیش کیا کرتے تھے اور خدا کی بجائے لوگوں سے امداد کے طالب رہتے تھے۔سوالی ہیں یہ لوگ۔تو ایک طرف یہ حکم ہے کہ سوالی سے غصے سے پیش نہ آؤ، اس سے زیادتی نہ کرو، اسے دباؤ نہیں۔دوسری طرف یہ ارشاد ہے کہ دیکھو خود سوالی نہ بنا یعنی اللہ کے سوالی بنو، غیر اللہ کے سوالی نہ بنو۔تو جن لوگوں کی مہمان نوازی کا ذکر آپ نے سنا کہ اللہ مہمان نوازی فرمائے گا اب ان کے حالات بھی سنیں کہ وہ کیسے لوگ ہیں جن کی اللہ تعالیٰ مہمان نوازی فرمائے گا اور خود اللہ تعالیٰ کے الفاظ میں میں یہ ذکر کر رہا ہوں وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ أَيْتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَ عَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ جِب اللہ کے نشان ان کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں تو وہ بہرے کانوں سے نہیں سنتے۔ان نشانات کو سن کر ان کے ایمان تازہ ہوتے ہیں اور پہلے سے بڑھ جاتے ہیں۔وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ اور اپنے رب پر تو کل میں پہلے سے بھی بڑھ جاتے ہیں۔تو کل تو شروع سے ہی تھا۔رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ کو آخر پر رکھنے سے مراد یہ ہے کہ جب ایمان بڑھتا ہے تو تو کل بڑھتا ہے اور پہلے سے بڑھ کر اپنے رب پر تو کل کرنے لگتے ہیں۔الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (الانفال : 4 ) یہ وہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں۔پس آنے والے مہمان ہوں یا ان کے میز بان ہوں اگر وہ نماز کو قائم کرنے والے نہیں تو اسی حد تک خدا تعالیٰ کی مہمانی کے وعدے سے اپنے آپ کو محروم کرنے والے ہیں۔یہ صفات ہیں جو خدا کے مہمانوں کی ہیں اللہ نے خود بیان فرمائی ہیں۔پس آنے والے بھی نماز قائم کریں۔بسا اوقات میں نے دیکھا ہے کہ لگتا تو یہ ہے کہ جلسے کے شوق میں آئے ہیں مگر بات بعد میں یہ کھلتی ہے کہ مجالس کے شوق میں آئے ہیں۔مل بیٹھنے، ایک دوسرے سے گپ شپ مارنے ، جو جلسے کے ماحول کا لطف ہے ایک قسم کے میلے والا ، دلچسپی اس میں تھی نہ کہ اللہ کی آیات کی تلاوت میں