خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 525 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 525

خطبات طاہر جلد 14 525 خطبہ جمعہ 21 جولائی 1995ء کی تو ان بن تھی یا پہلے دلوں میں کچھ آپس میں کدورت پائی جاتی تھی۔تو ایسی صورت میں جب تک مغفرت نہیں ہوگی آپ مہمان نوازی کا حق ادا نہیں کر سکیں گے اور اللہ کے مہمان ہیں اللہ پہلے مغفرت فرماتا ہے۔پھر مہمان نوازی کرتا ہے جب آپ کے مہمان بن کر آگئے تو آپ بھی پچھلی باتوں کو بھول جائیں۔ہاں اگر جرم نظام جماعت کا ہو، خدا تعالیٰ کا ہو تو اس پر آپ مغفرت کی قدرت نہیں رکھتے۔اس صورت میں ایک اور صورت حال پیدا ہوتی ہے جو پیچیدہ ہو جاتی ہے مگر میں روز مرہ کی بات کر رہا الله ہوں جن باتوں میں آپ کو مغفرت کا اختیار ہے اپنے مہمانوں سے مغفرت کا سلوک کریں۔دوسرا اس لئے بھی مغفرت کا لفظ ضروری ہے یعنی انسانی تعلق میں بھی مغفرت کا اطلاق ضروری ہے کہ مہمان اپنے قیام کے دوران بعض دفعہ عجیب و غریب حرکتیں کر دیتے ہیں۔عجیب و غریب مزاج کے لوگ ہیں وہ اپنی عادات سے نہ کہ جان بوجھ کر ہر وقت تنگ کرتے ہیں اور جس کو مغفرت کا حوصلہ نہ وہ اس سے نپٹ نہیں سکتا۔آنحضرت ﷺ کے زمانے میں ایک مہمان آیا مسجد میں ٹھہرا، اس کی خاطر مدارت کی گئی اور صبح مسجد کو گندہ کر کے بھاگ گیا۔اب وہاں صحابہ اور حضرت محمد ﷺ کا فرق نمایاں ہوتا ہے۔صحابہ تو ناراض تھے کہ کیسا انسان تھا، کیسا پلید آدمی تھا جو آیا ہے اور پھر مسجد کو بھی گندہ کر گیا اور صبح جا کے دیکھا تو حضرت محمد رسول اللہ اللہ خود اپنے ہاتھ سے اس کے گند دھورہے تھے۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا کرتے ہیں، ہمیں موقع دیں، آپ نے فرمایا میرا مہمان تھا۔تو یہ مغفرت کی انتہا ہے جیسا رب غفور رحیم ، ویسے محمد مصطفی و غفور رحیم تھے اور مہمان نوازی میں مغفرت کی ضرورت بارہا پیش آتی ہے۔ضروری نہیں کہ پرانے تعلقات میں کوئی خرابی ہو۔گہرے دوستوں سے، ان کے بچوں سے ایسی حرکتیں سرزد ہو جاتی ہیں۔کسی معصوم بچے سے آپ کا قیمتی واچ گر کر ٹوٹ جائے گا، کوئی بچے گندی عادات کے ہیں وہ دیواروں پر لکیریں مارنے لگ جاتے ہیں۔جہاں تک آنے والوں کا تعلق ہے ان کو نصیحت میں الگ کروں گا لیکن میں حوصلہ رکھنے والوں کے حوصلے کی بات کر رہا ہوں اس وقت۔ان کو جہاں تک ممکن ہو مغفرت کا سلوک کرنا چاہئے اور اپنا حوصلہ بڑھانا چاہئے۔نصیحت کرنی ہے تو کریمانہ نصیحت کریں کیونکہ نصیحت بھی کریمانہ اور غیر کریمانہ ہوسکتی ہے۔مہمان نوازی کے تعلق میں کریمی کے سوا اور کوئی ذکر نہیں ملتا۔مہمان نوازی کرنی ہے تو کریم ہونا پڑے گا۔رزق پیش کرنا ہے تو رزق کریم پیش کرنا ہو گا۔