خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 524 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 524

خطبات طاہر جلد 14 524 خطبہ جمعہ 21 / جولائی 1995ء پاتا ہے جب تک خود انسان کریم نہ ہو دوسرے کو کریم نہیں بنا سکتا۔تو جب مہمان نوازی کریم ہوئی تو ظاہر ہے، بلکہ لازم ہے کہ مہمان نوازی کرنے والا جو کریم مہمان نوازی کرتا ہے وہ خود معزز ہے ورنہ کسی کمینے کو یہ توفیق نہیں مل سکتی۔پس اللہ تعالیٰ نے جہاں جہاں مہمان نوازی کے ساتھ کریم کا لفظ باندھا ہے، کریم کی صفت بیان فرمائی ہے وہاں یہی مضمون ہے کہ میں کریم ہوں اس لئے میری مہمان نوازی بھی کریم ہوگی۔جو رزق میں تمہیں عطا کروں گا وہ بھی عزت بخشنے والا اور باعزت رزق ہوگا لیکن مغفرت پہلے ضرور رکھی ہے کہ جب تک مغفرت کے دروازے سے نہ گزرو تم حقیقت میں میری مہمان نوازی کے قبول کرنے کی یا اس سے لطف اندوز ہونے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔اس تعلق میں اور چند آیتوں کی مثالیں میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔أُولَيكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ دَرَجَتُ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ (الانفال :5) پھر دروازہ مغفرت کا قائم فرمایا کہ مغفرت کے باب سے گز رو گے تو رزق کریم تک پہنچو گے ورنہ تم رزق کریم تک رسائی ہی نہیں رکھ سکتے۔تو وہ لوگ جو جنت میں جائیں گے انہیں کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔فرماتا ہے اس سے پہلے جو ان کی صفات ہیں وہ پوری بیان فرمائی گئی ہیں اور یہ صفات بھی میں جلسے کی مہمان نوازی کی نصائح کے تعلق میں آپ کے سامنے کھول کر رکھنا چاہتا ہوں مگر پہلے میں پہلی آیت کی طرف واپس جاتا ہوں۔آگے اور بھی آیات میں نے رکھی ہیں اگر وقت ملا ، تو ہر آیت جس میں رزق کریم کا ذکر ہے یا معزز مہمان نوازی کا ذکر ہے اس سے پہلے بلا استثناء مغفرت کا ذکر ہے۔تو اول تو یہ کہ بسا اوقات ایسے مہمان آتے ہیں جو آپ سے تعلق والے ہیں اور آپ ان کو جانتے ہیں اور وہ آپ کو جانتے ہیں ایک دوسرے کا احسان سے تعلق ہے۔مگر بعض دفعہ جلسے کے انتظام کی طرف سے مہمان تقسیم کئے جاتے ہیں اور ربوہ اور قادیان میں تو یہ بکثرت ہوتا تھا کہ ایک شخص سے پوچھا جاتا تھا کہ تمہارے گھر میں کتنے مہمانوں کی گنجائش ہے۔وہ بتا دیتا تھا کہ میں ہیں رکھ سکوں گا، پچھپیں رکھ سکوں گا، تمہیں رکھوں گا اور پھر وہ جن لوگوں کو نہیں جانتا تھا کبھی دیکھا تک نہیں تھا وہ بھی مہمان آجاتے تھے اور بعض دفعہ ایسے مہمان آجاتے تھے جن سے پہلے دل میں کدورت موجود تھی لوگ سمجھتے تھے کہ واقف ہیں یا رشتے دار ہیں بھیج دیتے تھے اور وہاں پہنچنے کے بعد پتا چلتا تھا کہ اوہوان