خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 521
خطبات طاہر جلد 14 521 خطبہ جمعہ 21 / جولائی 1995ء کرتے تھے کہ اس کا انتظام ہونا چاہئے اور باقی سب امور میں مزاج شناسی کے ساتھ مہمان کا جو مزاج معروف تھا اس کے مطابق چیزیں پہلے ہی مہیا کر دی جاتی تھیں کہ اسے مانگنا نہ پڑے۔اس کے بعد پھر بھی گنجائش رہتی ہے۔کبھی مہمان کے دل میں کوئی اور طلب پیدا ہو جاتی ہے جو اس کے عام مزاج سے ظاہر نہیں ہوتی اور کبھی کسی اور چیز کی طلب پیدا ہو جاتی ہے۔تو وقت بدلتے ہیں خواہشیں بدلتی رہتی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو کامل فرما دیا یہ کہہ کر وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ تمہارے لئے اس میں ہوگا جو کچھ تمہارے دل چاہیں گے وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ اور تمہارے لئے اس میں ہو گا جو تم طلب کرو گے۔لیکن ایک صرف الجھن باقی رہ جاتی ہے کہ انسان کو تو پتا نہیں ہوتا کہ کیا طلب کرے گا۔اللہ تعالیٰ نے طلب کا انتظار کیوں فرمایا تَشْتَهِی کے تابع ہی وہ ساری ضرورتیں کیوں نہ مہیا فرما دیں جنت میں جو انسان کبھی طلب کر سکتا تھا۔تو اس میں بھی ایک گہری حکمت ہے اور بہت لطیف انداز میں ہماری تربیت فرمائی گئی ہے۔طلب وہی کرتا ہے جس کو پورا اعتماد ہو، جو بے تکلف ہو، کچھ دیر ٹھہرنے کے بعد اسے یقین ہو کہ میں کچھ مانگوں گا تو میرا میز بان خوش ہوگا اس سے ہماری اپنائیت بڑھے گی۔تو اللہ تعالیٰ اس اپنائیت کے مضمون کو جنت کے تعلق میں ایک جگہ نہیں کئی جگہ بیان فرماتا ہے یہاں تک کہ فرمایا کہ وہ ایک دوسرے سے چھین چھین کے کھائیں گے۔جہاں سب کچھ موجود ہو، با فراغت موجود ہو کسی چیز کی کمی نہ ہو، وہاں چھینے کی کیا حاجت ہے یہ ایک اظہار محبت ہے، ایک تعلق کا اظہار ہے۔تو اصل مہمان نوازی وہ ہے جہاں محبت کا مضمون جاری ہو جائے ، جہاں بے تکلفی اور اعتماد قائم ہو جائیں، جہاں مہمان اور میزبان میں فرق باقی نہ رہیں اور اس قدر اس کو اعتماد ہو اپنے میزبان پر کہ کہے اچھا آج تو میرا یہ دل چاہ رہا ہے اور میزبان شوق سے کہے جزاکم اللہ تم نے بہت مجھے خوش کیا ہے جو خو دمنہ سے مانگا ہے۔تو اللہ تعالیٰ بھی یہ لطف دے گا اور اٹھائے گا بھی اور جب میں کہتا ہوں لطف اٹھائے گا تو خدا تعالیٰ کی عظمت شان کے پیش نظر جو بھی لطف اٹھانے کے معنے ہیں انہیں میں بیان کر رہا ہوں۔مہمان نوازی ہی کے تعلق میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے بھی اللہ کے لطف اٹھانے کا ذکر فرمایا ہے۔پس جن معنوں میں اللہ وہ لطف اٹھاتا ہے انہی معنوں میں میں بھی کہ رہا ہوں کہ اللہ بھی اس کے لطف اٹھائے گا جب جنتی مانگیں گے۔تو سب سے پہلے تو کوشش کرنی چاہئے کہ آنے والے مہمانوں کو اگر آپ جانتے ہیں ان کی