خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 519
خطبات طاہر جلد 14 519 خطبہ جمعہ 21 جولائی 1995ء جلسہ پر آنے والے مہمانوں کو نصائح قرآن وسنت کے مطابق مہمان اور میزبان بنیں۔( خطبہ جمعہ فرمودہ 21 جولائی 1995ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ تلاوت کیں۔وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِىَ أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ حم السجدة : 33،32) آجکل چونکہ جلسہ سالانہ کے مہمانوں کی آمد آمد ہے اور جیسے بہار کے موسم میں کچھ پرندے پہلے پہنچ جاتے ہیں اور کہیں کہیں ان کے نغموں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں، کہیں درختوں کے جھنڈ میں ان کے رنگ دکھائی دیتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ اب بہار بہت پیچھے نہیں رہے گی۔اس وقت ہم اس کیفیت میں داخل ہو چکے ہیں۔اللہ کے فضل کے ساتھ سلسلے کے عشاق ،محبت کرنے والے، دنیا کے کونے کونے سے یہاں نمونیہ جمع ہو چکے ہیں اور انشاء اللہ ان کے پیچھے جھنڈ کے جھنڈ ان روحانی پرندوں کے آنے والے ہیں۔اس پہلو سے مقامی لوگوں پر جو مہمان نوازی کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس کے تعلق سے میں نے اس آیت کریمہ کی تلاوت کی تھی جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کی مہمان نوازی کا ذکر ہے اور چونکہ سلسلہ مضمون صفات باری تعالیٰ پر جاری ہے اس لئے اسی تعلق سے میں نے وہ آیت چنی جس میں بظاہر ایسی صفات کا ذکر ہے جن کا مہمان نوازی سے تعلق نہیں ہے۔مگر جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا قرآن کریم میں جتنی بھی اللہ کی صفات بیان ہوئی