خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 47 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 47

خطبات طاہر جلد 14 47 خطبہ جمعہ 20 جنوری 1995ء ہیں۔ایسے بچے اگر نظام جماعت سے تعلق نہ رکھیں تو بہت دفعہ دیکھا ہے کہ ایسے ماں باپ ہیں ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ایسے بچے عموماً اگر لڑکے ہیں مثلاً ان کی آپ تاریخ کا مطالعہ کریں، یعنی ان کے گزشتہ حالات کا ، آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ بچپن ہی سے نہ کبھی اطفال کے کاموں میں ، نہ خدام کے کاموں میں ، نہ مسجد میں آنے جانے کا ان کا تعلق قائم ہوا اور ماں باپ نے دیکھا ہے پرواہ نہیں کی۔اس بات پر خوش رہتے ہیں کہ انہوں نے یونیورسٹی میں بہت اچھے نمبر لئے ہیں یا سکول میں غیر معمولی نمبروں پہ کامیاب ہوئے ہیں اور اسی فخر میں رہتے ہیں اور ان کو اس طرح دیکھتے ہیں جیسے ان سے بڑی چیز ان کے گھر میں پیدا ہو گئی ہے، یہ رعب ہے اصل میں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے لئے ایک ایسی دعا سکھائی ہے کہ میری تو روح وجد میں آجاتی ہے جب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ مصرعہ پڑھتا ہوں اپنی اولاد کے حق میں کہ: نہ آوے ان کے گھر تک رعب دجال (در شین: 48) کہ اے اللہ رعب دجال کو ان کے گھر کے پاس نہ پھٹکنے دینا کیونکہ رعب پہلے آتا ہے پھر انسان کا دشمن ہو جاتا ہے اس سے پہلے نہیں۔پہلے ایک نفسیاتی رعب پیدا ہوتا ہے۔جس کے دل میں دنیا داریوں کا ، مغربیت کی اقدار کا یا دوسری لامذہب اقدار کا رعب چھا جائے وہ اپنی اولاد کی تربیت کا اہل نہیں رہتا۔اس اولا د سے بچپن ہی سے مرعوب رہتا ہے۔کئی دفعہ ایسا ہوا میرے پاس ملاقات کے لئے خاندان آیا اور ایک لڑکے نے سنہری زنجیر پہنی ہوئی تھی ، ایک کان میں بندا تھا اور بال بڑھائے ہوئے یا ایک لڑکی نے دوسرے رخ اختیار کئے ہوئے تو میں نے اس کو پیار سے سمجھایا۔میں نے کہا تم نے یہ کیا کام شروع کیا ہوا ہے۔اب مشکل نہیں تھا مجھ پہ چونکہ رعب نہیں تھا اس لئے میں نے پورے اعتماد سے اس سے بات کی اور اس کو بتایا کہ یہ تو بہت ہی بچوں والی باتیں کر رہے ہو تم۔تم سے توقع نہیں ہے آنکھیں بند کر کے ایک قوم کی نقل کر رہے ہو اس میں کوئی بھی حکمت نہیں ہے جاہلانہ بات ہے اور بعضوں نے اسی وقت اتار کے وہ پھینک دیا۔ایک بچے نے زنجیر اتاری توڑ کے پھینک دی اس نے کہا مجھے کوئی تعلق نہیں اس زنجیر سے اور ماں باپ سامنے دیکھ رہے تھے ان کو کیوں خیال پہلے نہیں آیا اس لئے کہ خود مرعوب تھے۔عورتوں کی طرح بڑھے ہوئے بال ، جب میں نے بتایا یہ تو طریق ہی رسول اللہ ﷺ نے ناپسند فرمایا ہے،