خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 514
خطبات طاہر جلد 14 514 خطبہ جمعہ 14 جولائی 1995ء ہے۔اگر ایک کمزور، نکھے ، بیکار، بد اخلاق آدمی نے صبر کر بھی لیا تو کیا صبر کیا وہ تو کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتا محض ایک کمزوری اور نا چاری کی دلیل ہے اللہ تعالیٰ جس صبر کی تلقین فرمارہا ہے اس مضمون کو کھولتا چلا جاتا ہے۔قرآن کریم نے اس کے ماحول کو بیان فرمایا ہے وہ کون سا صبر ہے جو طاقتو ر صبر ہے جس نے انقلاب برپا کرنے ہیں۔ان لوگوں کا صبر ہے جو دنیا میں عظیم روحانی انقلاب برپا کر دیا کرتا ہے۔وہ لوگ جو اس طرح صبر کرتے ہیں، اس طرح صبر کرتے ہیں، اس طرح صبر کرتے ہیں اور صلوۃ پر قائم فرمانے کے بعد صبر کرنے والوں کو پھر فرماتا ہے ان کے عام اعمال بھی بہت اچھے ہو جاتے ہیں، بہت دلکش اعمال ہوتے ہیں لوگوں کی ان پر پیار سے نظریں پڑنے لگتی ہیں ان کے کردار سے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔فرماتا ہے ہر قسم کے لوگ جو لَفَرِح فَخُورٌ ہوں وہ مٹ جانے والے لوگ ہیں۔مگر إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَ عَمِلُوا الصلحت (هود: 11) ہاں وہ لوگ جو صبر کرتے ہیں اور نیک اعمال بجا لاتے ہیں اولَكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرً ا یسے مبر کرنے والوں کے لئے دو وعدے ہیں۔ایک مغفرت اور اعمال صالحہ کے تعلق میں مغفرت کا مضمون یہ بتاتا ہے کہ اعمال صالحہ کے ہوتے ہوئے بھی ہم میں سے اکثر کئی گناہوں میں ملوث ہو جاتے ہیں کئی کمزوریاں دکھا جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر صبر کے ساتھ اعمال صالحہ کرو یعنی اس میں صبر اور اعمال صالحہ کے مضمون میں کئی پہلو ہیں۔ایک یہ بھی ہے کہ صبر کرو اور اعمال صالحہ بجالا و یا صبر کے ساتھ اعمال صالحہ بجالاتے رہو، کوشش کرتے رہو کہ تم سے نیک باتیں ظاہر ہوں ، بدیاں ظاہر نہ ہوں۔کوشش کرو کہ تم ایک پاک نمونہ دنیا کو دکھاؤ۔تو اللہ تعالیٰ یہ وعدہ فرماتا ہے کہ تم سے مغفرت کا سلوک فرمائے گا تمہاری جو کمزوریاں ہوں گی ان سے صرف نظر فرمائے گا اور انہیں معاف فرمادے گا اور تمہیں اجر عظیم عطا فرمائے گا۔یہاں بھی اجر عظیم اور مغفرت کو صبر ہی کے مضمون کے ساتھ باندھا ہے۔یہ آیت سورہ ہود کی بارہویں آیت تھی جو میں نے پڑھ کے سنائی ہے۔اب سورہ الاحقاف کی آیت 36 میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کومخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے