خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 513 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 513

خطبات طاہر جلد 14 513 خطبہ جمعہ 14 جولائی 1995ء نہیں کرتے۔وہ صبر کسی فائدے کا نہیں، کبھی نتیجہ خیز نہیں ہوتا بلکہ ایسے صبر کرنے والے بسا اوقات صفحہ ہستی سے مٹا دیئے جاتے ہیں، کوئی ان کا مددگار نہیں ہوتا، کوئی ان کی اعانت کرنے والا نہیں ہوتا۔پس اللہ فرماتا ہے کہ ایمان لانے والوصبر کے ساتھ استعانت کرتے رہو یعنی اللہ سے مدد مانگتے رہو ، اعانت مانگتے رہو اللہ کی۔اس کا مطلب وَاسْتَعِيْنُوْا۔وَالصَّلوۃ اور نماز نہیں بھولنی۔عبادت کا قبولیت دعا سے اور تعلق باللہ سے گہرا تعلق ہے۔پس جماعت احمدیہ کو جہاں جہاں خصوصیت سے وہ دردناک حالات سے گزر رہی ہے اور صبر کر رہی ہے یادرکھنا چاہئے کہ عبادت لازم ہے اور ہمیں اپنے عبادت کے معیار کولا زما اونچا کرنا ہوگا۔جنگ بدر کے وقت جو مقبول دعا آنحضرت ﷺ نے کی وہ عبادت ہی کے حوالے سے تھی۔آپ نے عرض کیا کہ اے خدا اگر اس میدان میں ہم مارے گئے تو پھر تیری دنیا میں کبھی عبادت نہیں کی صلى الله جائے گی کیونکہ وہ سب سے بڑا عبد محمد رسول اللہ ہے جنہوں نے خود عبادت کے گر سکھائے تھے۔تیری عبادت کرنے والوں کا خلاصہ تیار ہوا ہے جو انسانیت کا معراج ہے اگر یہ مٹ گیا تو پھر کون عبادت سکھائے گا ان کو اور کون عبادت کرے گا۔یہ مضمون ہے اور اتنی طاقتور دعا تھی کہ آنافا نا جنگ کی کا یا پلٹ گئی۔پس الصلوۃ کا اس مقابلے سے تعلق ہے جو کمزور لوگوں کا طاقتور لوگوں سے ہو جاتا ہے اور وہیں صبر کا مضمون آتا ہے اور وہیں صلوۃ کی زیادہ ضرورت پیش آتی ہے۔پس اپنی عبادت کے معیار کو بھی بلند کریں اور اپنے گھروں میں اپنے گرد و پیش خصوصیت کے ساتھ نماز قائم کرنے کی تلقین کریں کیونکہ مجھ پر یہ تاثر ہے کہ ابھی بہت سی جماعتوں میں نماز کی طرف سے غفلت ہے۔پڑھتے تو ہیں لیکن جس طرح نماز کے قیام کا حق ہے کہ پورے انہماک کے ساتھ ، جدوجہد کے ساتھ ، جذبے کے ساتھ لگن کے ساتھ خود بھی نماز پڑھنے والے ہوں ، اپنے گردو پیش میں بھی نماز کی تلقین کر رہے ہوں، اپنے گھر والوں کو بھی نمازی بنا رہے ہوں یہ چیز اس شان سے نہیں پائی جاتی اور ضرورت ہے کہ ہر گھر میں ہمارے نماز کو اہمیت دی جائے اور اگر نماز کو اہمیت دیں گے تو پھر آپ کا صبر اور بھی زیادہ پھل دار بن جائے گا کیونکہ نماز کے ساتھ جب استعانت کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی نصرت ضرور نازل ہوگی۔پھر صبر کا مضمون عبادت کے علاوہ عمل صالح سے بھی تعلق رکھتا ہے یعنی خالی صبر کوئی چیز نہیں