خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 512
خطبات طاہر جلد 14 512 خطبہ جمعہ 14/ جولائی 1995ء انہوں نے صبر کیا اور دکھ دیئے گئے یہاں تک کہ ہماری مدد آئی۔فرماتا ہے وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمت اللہ یہ کوئی ٹلنے والی بات نہیں ہے جس نصر کی ہم بات کر رہے ہیں اس کو کوئی دنیا کی چیز تبدیل نہیں کر سکتی وَلَقَدْ جَاءَكَ مِنْ نَّبَنِى الْمُرْسَلِينَ اور تیرے پاس مرسلین کی خبریں آچکی ہیں تو جانتا ہے کہ ایسا ہی ہوا کرتا ہے پس اب بھی ایسا ہی ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی جس زور کے ساتھ بھی جھٹلایا گیا ہے، جس ظلم اور سفا کی کے ساتھ جھٹلایا گیا ہے، تمام انبیاء کی تاریخ میں شاذ ہی آپ کو کوئی دکھائی دے جس کو اس طرح ظلم اور سفاکی کے ساتھ جھٹلایا گیا ہو۔نوح کی قوم کی ایک مثال ہے لیکن اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا تھا۔یہاں مشکل یہ ہے کہ اس قوم کو ہم بچانا چاہتے ہیں اور اس قوم کے ظالموں کو مٹانا چاہتے ہیں۔پس ایک طرف بد دعا محدود دائرے میں اللہ کی رضا کے تابع رہتے ہوئے ضروری ہے، دوسری طرف صبر ضروری ہے عام قوم کو بچانے کے لئے اور ان پر رحم کی خاطر اگر ایسا ہو گا تو جیسا کہ میں نے آیت کے اس حصے پر زور دیا ہے وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَتِ اللہ ہماری نصرت اور فتح میں ایک ذرے کی بھی شک کی گنجائش نہیں، یہ اللہ کا کلام ہے اور اللہ کا کلام تبدیل نہیں ہوا کرتا۔صبر کے ساتھ ایک اور مضمون کو بھی باندھا گیا ہے فرمایا يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ إِنَّ اللهَ مَعَ الصيرِينَ (البقره:154 )۔اب صلوۃ پہلے نہیں رکھا حالانکہ صلوۃ بنیادی چیز ہے۔فرمایا ہے اے لوگو جو ایمان لائے ہو مدد مانگو صبر کے ساتھ اور صلوٰۃ کے ساتھ صبر ایک جاری چیز ہے جب انسان دکھوں کی حالت میں صبر کرتا ہے تو اس کا دن بھی صبر میں کہتا ہے اس کی رات بھی صبر میں کٹتی ہے۔ہر لمحہ بے چین ہوتا ہے، ہر لمحہ صبر کی آزمائش ہوتی ہے اور صلوٰۃ کے لئے تو کھڑے ہونے کا وقت تو کبھی کبھی آتا ہے تو فرمایا کہ نماز کا انتظار نہ کیا کرو صبر کی حالت میں دعائیں مانگتے رہو اور پھر جب نماز کا وقت آئے تو خصوصیت کے ساتھ نماز میں کھڑے ہوکر سجدہ ریز ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو اور صبر کرنے والوں کی یہ دعائیں رائیگاں نہیں جاتیں۔پس ایک ضمنی فائدہ اس سے یہ بھی حاصل ہوا کہ اگر آپ صبر کرتے رہیں اور عبادت نہ کر رہے ہوں ، صبر ہی کرتے رہیں اور آپ کا خدا سے کوئی ذاتی تعلق ہی قائم نہ ہو تو یہ صبر رائیگاں جائے گا۔کئی لوگ ہیں جو مصیبتوں میں ڈالے جاتے ہیں لیکن ان مصیبتوں کے نتیجے میں اللہ سے تعلق قائم