خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 511
خطبات طاہر جلد 14 511 خطبہ جمعہ 14/ جولائی 1995ء ایک پہلو میں نے بیان کیا ہے اگر صبر کرنے والے کے دل سے ایسی بددعا نکلے جو مومن کی شایان شان ہو، جو انبیاء کی سنت کے مطابق ہو ، اس میں اذن الہی شامل ہو تو وہ بددعا دشمن کو ہلاک کرنے کے لئے ایک حیرت انگیز کام دکھاتی ہے۔کبھی نصرت نہیں ملتی در مولیٰ سے گندوں کو (در مشین :63) والا جو مضمون ہے اس میں یہی مضمون تفصیل سے بیان ہوا ہے۔تو پہلی مثال میں نے آپ کو دی جو ہم بددعا کرتے ہیں اس کی جڑ بھی دراصل آخری صورت میں رحم پر ہے اور ایک محدود طبقے کے لئے کرتے ہیں اور اس میں میں آپ کو یاد دہانی کرواتا ہوں کہ دعا کرنے میں بھی صبر ضروری ہے، صبر سے کرتے چلے جائیں اور جلدی نہ چاہیں۔جب بھی خدا چاہے گا وہ دعا آپ کی ضرور قبول ہوگی اور وہ جودشمنی اور ظلم اور سفا کی میں نہ صرف خود بہت آگے بڑھ گئے ہیں بلکہ ساری قوم کو ظالم بنارہے ہیں اللہ کی تقدیر ضرور ان کو پکڑے گی ، اس میں تو کوئی شک کی گنجائش نہیں لیکن زیادہ توجہ رحمت والی اسی دعا کی طرف کریں جس کے نتیجے میں قوم میں حیرت انگیز پاک تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔اور اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ یہ سمجھا رہا ہے آنحضرت ﷺ کو مخاطب فرماتے ہوئے کہ دیکھ تجھے سے پہلے بھی تو بہت سے رسول تھے جنہیں جھٹلا دیا گیا اور جس طرح جھٹلائے گئے ، وہ جس جس طریق پر جھٹلائے گئے انہوں نے ان پر صبر کیا اور بہت دکھ دیئے گئے لیکن صبر نہیں ٹوٹا حَتَّی اَتُهُمْ نَصْرُنَا یہاں تک کہ ہماری مددان تک آ پہنچی۔آسمان سے جب نصرت آنے کا وقت ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس شان سے بھیجتا ہے کہ اچانک فتح ہی فتح ہو جاتی ہے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کا یا پلٹ گئی ہو۔تو وہ وقت بھی لازماً آئے گا۔بعض ممالک میں آرہا ہے اور حیرت انگیز روحانی انقلاب برپا ہورہے ہیں لیکن پاکستان کے حوالے سے میں بتا رہا ہوں کہ یہاں بھی یہ ہوکر رہے گا۔جو چاہیں یہ علماء کر لیں جو زور لگاتا ہے لگا لیں جس طرح چاہیں روکیں ڈالنے کی کوششیں کریں، ہر روک ان کی خس و خاشاک کی طرح اڑا دی جائے گی۔کوئی بس نہیں چلے گا یہ خود پکڑے جائیں گے اور عبرت کا نشان بنیں گے اور قوم کی اکثریت انشاء اللہ تعالیٰ ہدایت پائے گی۔لیکن ابھی دکھ اور صبر کے کچھ اور دن ہمیں دیکھنے ہیں اس لئے دکھ کوصبر کے ساتھ برداشت کرتے چلے جائیں اور یا درکھیں کہ یہ سنت اللہ ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں۔یہ فرمانے کے بعد کہ دیکھ اے محمد یہ تجھ سے پہلے بھی لوگوں کو ، انبیاء کو جھٹلایا گیا