خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 510 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 510

خطبات طاہر جلد 14 510 خطبہ جمعہ 14 جولائی 1995ء اور کہتا ہے کہ مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی، کوئی بے صبری کے نتیجے میں ایسی بات ہوگئی ہو جس سے تمہاری دل آزاری ہوتی ہو مجھے معاف کر دو۔عاشق انتقام لے کر اپنے معشوق سے اپنے غلبے کو نہیں منا تا اور بھی اس کے قدموں میں گر جاتا ہے۔پس تم شوق سے آؤ اور احمد بیت قبول کرو تم دیکھو گے کہ ہمارا یہی حال ہوگا ہم تم سے اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگیں گے اور تمہارا استقبال کریں گے جیسے ایک عاشق معشوق کا استقبال کرتا ہے۔پس یہی وہ مضمون ہے درحقیقت جواب عملاً جاری ہو چکا ہے۔اس میں نصیحت بھی تھی اور پیشگوئی بھی تھی۔پیشگوئی کے یہ معنی تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل اور رحمت سے میرے دور میں وہ اس خواب کی تعبیر کس طرح ظاہر فرمائے گا کہ جہاں بڑی بڑی شدید مخالفتیں تھیں ان پر ہمیں غلبہ عطا کرے گا اور غلبہ رحمت اور محبت اور عشق کے نتیجے میں عطا کرے گا اور اسی غلبے کے بعد ہمیں متکبر نہیں ہونے دے گا بلکہ اور بھی زیادہ ہم عاجزی کے ساتھ گر جائیں گے اور جن لوگوں پر ہمیں فتح نصیب ہو گی ان کی پہلے سے بڑھ کر خدمت کریں گے۔پس یہی ہے صبر اور رحمت کا مضمون۔صبر سے اس کام کو کرتے چلے جاؤ لیکن انتقام کا کوئی جذبہ اپنے دل میں آنے نہ دورحم کی خاطر ، محبت اور پیار کی خاطر اگر تبلیغ کرو گے تو لازماً اس میں کامیابی نصیب ہوگی۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُ وا عَلَى مَا كُذِبُوْا وَ أوذُوا حَتَّى أَتْهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَتِ اللهِ وَلَقَدْ جَاءَكَ مِنْ نَّيَاى الْمُرْسَلِينَ (الانعام: 35) یقیناً رسولوں کو تجھ سے پہلے بھی جھٹلا دیا گیا فَصَبَرُوا تو انہوں نے اس جھٹلانے کے نتیجے میں صبر کیا اعلیٰ مَا كُذِبُوا اس بات پر جس پر ان کو جھٹلایا گیا۔اس طریق پر کہ یہ معنی ہیں جس پر انہیں جھٹلایا گیا۔وَاُوذُوا اور وہ بہت دکھ دیئے گئے۔حَتَّى أَتُهُمْ نَصْرُنَا یہاں تک کہ ان تک ہماری نصر آئی ، ہماری مددان تک آ پہنچی۔تو صبر کا دوسرا تعلق خدا کی خاطر دکھ برداشت کرنے سے ہے جس کے نتیجے میں آسمان سے غیر معمولی نصرت کی تائید اترتی ہے۔