خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 509 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 509

خطبات طاہر جلد 14 509 خطبہ جمعہ 14/ جولائی 1995ء آپ کے صبر کی دلیل ہوگا۔اگر مغلوب ہوں ، کمزور ہوں اور کچھ نہ کریں اور طاقت حاصل کرتے ہی بدلے لینے شروع کر دیں تو ثابت ہوا کہ پہلے بزدلی تھی ، نامرادی کی سی حالت تھی اور نہ دل تو یہی چاہتا تھا کہ ہم خوب بدلے لیں۔اس لئے بعض دفعہ فتح کے بعد ، فتح سے پہلے کے حالات آزمائے جاتے ہیں۔فتح سے پہلے کی اندرونی حالتیں کھل کر فتح کے بعد سامنے آ جاتی ہیں۔یہی وہ مضمون ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے خلافت کے منصب سے کچھ پہلے ایک رؤیا کی صورت میں دکھایا اور مجھے غالباً اسی کے لئے تیار کرنا تھا۔وہ پہلے جلسہ سالانہ پر بھی میں نے روکا بیان کی تھی مگر اس مضمون سے چونکہ تعلق ہے اس لئے میں دوبارہ آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔میں نے دیکھا کہ ایک مجلس میں احمدی اور غیر احمدی علماء کے درمیان مناظرہ ہورہا ہے، گفتگو ہورہی ہے اور میں بھی اس میں شامل ہوں لیکن کچھ ہلکا ہلکا خاموش خاموش سا ہوں کھل کر نمایاں اس میں حصہ نہیں لے رہا۔لیکن اور علماء موجود ہیں گفتگو ہو رہی ہے یہاں تک کہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ دلائل کے لحاظ سے مغلوب ہو چکے ہیں۔جب وہ مغلوب ہو جاتے ہیں تو ان میں سے ایک شخص اٹھ کر یہ سوال اٹھاتا ہے کہ دیکھو ہمارے لئے تو تمہارے ساتھ شامل ہونے کی تمہیں قبول کرنے کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہی۔ہم نے اتنے ظلم کئے ہیں تمہارے اوپر ایسی ایسی زیادتیاں کی ہیں کہ اگر ہماری تائید کے نتیجے میں تم غالب آ گئے تو تم ہمیں کچل دو گے ہم سے سب بدلے لو گے اس لئے ہم نے اپنے لئے ہدایت پانے کی کوئی راہ ہی باقی نہیں چھوڑی، اب ہم ڈرتے ہیں کہ تم غالب آ گئے تو ہم سے انتقام لو گے۔اس وقت میں پہلے جو حصہ تھا وہ مجھے اب تفصیل سے یاد نہیں کن معنوں میں تھا لیکن ہلکا نظر آتا تھا ایک دم جوش سے اٹھ کھڑا ہوتا ہوں اور میں ان سے کہتا ہوں۔یہ عجیب فقرہ زبان سے جاری ہوتا ہے کہ میں لجنہ اماءاللہ کے ان تیروں میں سے ہوں جنہیں ایک خاص وقت کے لئے بچا کر رکھا جاتا ہے مگر بعض دفعہ وہ وقت اندازے سے پہلے آ جاتا ہے۔پس اب وہ وقت آچکا ہے کہ یہ تیر استعمال ہو۔وہ مقابلہ ہے چونکہ اس لئے محاورہ تیر کا چل رہا ہے۔میں کہتا ہوں میں آپ کو جواب دیتا ہوں کہ آپ نے جو ہم پر مظالم کئے ہم سے آپ کو کیوں خطرہ نہیں ہے۔میں کہتا ہوں دیکھو ایک عاشق مسلسل معشوق کے ہاتھوں ستایا جاتا ہے اور معشوق اس پر طرح طرح سے مظالم کرتا ہے لیکن جب وہ معشوق پر غالب آجاتا ہے تو اس سے معافیاں مانگتا ہے اس کے پاؤں دھوتا ہے اور اسی کے پاؤں چومتا ہے