خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 501
خطبات طاہر جلد 14 501 خطبہ جمعہ 14 جولائی 1995 ء طاقت کے ہوتے ہوئے ظالم کیلئے رحم چاہنا صبر ہے۔اولوالعزم نبیوں کی طرح صبر کریں تا کہ خدا ولا تحزن کی آواز دے (خطبہ جمعہ فرمودہ 14 / جولائی 1995 ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ تلاوت کیں۔وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ) (العصر : ۲ تا ۴) پھر فرمایا:۔اللہ تعالیٰ کے حق نام کے تعلق سے میں نے گزشتہ جمعہ میں تبلیغ کی طرف توجہ دلائی تھی کہ حق ذات سے تعلق ہو تو حق پھیلانا اس کا ایک طبعی نتیجہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے اسم حق کا جہاں جہاں مختلف رنگ میں استعمال ہوا ہے اس کا ذکر کر کے اس مضمون پر روشنی ڈالی تھی۔سورۃ العصر میں جس کی میں نے تلاوت کی ہے اس میں وہ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ کے ساتھ وَتَوَاصَوْا بِالصّبرِ کے مضمون کو باندھا گیا ہے جو ہر جگہ جہاں بھی تبلیغ کا مضمون ہے وہاں صبر کا مضمون بھی ہمیں نظر آتا ہے۔اکثر ظاہری الفاظ میں، کہیں دبے ہوئے مضمون کی صورت میں مگر دعوت الی اللہ کا ذکر ہو اور صبر کا نہ ہو، یہ ہو نہیں سکتا صبر ضرور کسی نہ کسی رنگ میں مذکور ہوتا ہے۔پس اس پہلو سے ذہن میں یہ خیال ابھرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی کوئی صفت صبور بھی ہوگی ، شاید صبار بھی ہوگا وہ اور اس کے اسماء میں یہ نام ملیں گے لیکن آپ تلاش کریں سارے قرآن کریم میں کہیں صفات باری تعالیٰ یا اسمائے باری تعالیٰ کے طور پر صبوراورصبار کے الفاظ نہیں ملتے۔جبکہ حدیث