خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 498 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 498

خطبات طاہر جلد 14 498 خطبہ جمعہ 7 / جولائی 1995ء اچھا بندہ تھا تو ہزار جو مصیبتیں تھیں وہ خدا تعالیٰ کے ایک نِعْمَ الْعَبْدُ پر قربان حسرت تو یہاں تک کہتا ہے ( مجھے شعر یاد تھا ایک مصرعہ ذہن سے نکلا ہوا ہے میں بتا دیتا ہوں دوسرا ) وہ کہتا ہے: صحتیں لاکھوں مری بیماری غم پر ثار جس میں اٹھے بارہا ان کی عیادت کے مزے (دیوان حسرت) کہتا ہے میری لاکھوں صحتیں ایک بیماری غم پر نثار ہو جائیں جس میں میرے محبوب نے کئی بار میری عیادت کی ہے وہ اللہ جس نے ایوب کی عیادت کی جس نے اس کے ذکر کو پیار کے ساتھ ہمیشہ دوام بخش دیا ایک آزمائش کیا ایسی ہزار آزمائشیں ان خدا کی عیادتوں پر قربان۔تو ابتلاء سے بھی اس طرح گھبرانا نہیں چاہئے کہ ابتلاء آ گیا تو مارے گئے ، ابتلاء آیا تو وہ مارے جائیں گے جو بے وفا ہوں گے ، وفاداروں کو ابتلاء کچھ نہیں کہتا۔چنانچہ اس کی ایک دوسری مثال ایک اور شکل میں ملتی ہے ایک خدا کا بندہ عبادت گزار بڑی شہرت رکھنے والا ایسا تھا کہ وہ جب ایک غار میں جا کر پناہ گزین ہوا تو ساری مخلوق خدا کا رخ خدا نے اس طرف پھیر دیا۔وہ اپنی طرف سے دنیا کو چھوڑ کر ایک پہاڑی کی کھوہ میں جا بیٹھا تھا اور اس نے اپنے رزق کی کوئی پرواہ نہیں کی لیکن لوگوں کے دلوں میں ڈالا گیا کثرت سے نعمتیں اس کی طرف روانہ ہونی شروع ہوئیں ہر ضرورت اس کی پوری ہونی شروع ہوئی وارے نیارے ہو گئے۔پھر وہ خدا جو ایوب کا خدا تھا اس نے کہا اس کی بھی تو میں آزمائش کر کے دیکھوں۔بڑی میں نے نعمتیں دی ہیں دیکھوں تو سہی کیسا شکر گزار بندہ ہے۔جب آزمائش کی تو کچھ دن ایسے آئے کہ ہر ایک سمجھا کہ اتنے لوگ جاتے ہیں، اتنی نعمتیں جارہی ہیں ، آج میں نہ گیا تو کون سا فرق پڑے گا اور شہر کے شہر کا رخ بدل گیا۔تمام مرید اور اعتقاد رکھنے والے اس خیال سے کہ ہزاروں بندے خدا کے جار ہے ہیں ہم نہ گئے آج تو کیا فرق پڑتا ہے، اتفاق نہیں بلکہ خدا کی تقدیر کے تابع چند دن کے لیے اکٹھے رک گئے۔جب بھوک کی شدت بڑھی تو غار چھوڑی شہر میں گیا اور ایک دروازہ کھٹکھٹایا اور بھیک مانگی میں بھوکا ہوں مجھے کچھ دواس نے دو روٹیاں لا کر کچھ لگایا یا نہیں لگایا ساتھ ، روٹیاں لا کے دے دیں جب وہ چلنے لگا تو کتا جو باہر چوکھٹ پہ بیٹھا تھاوہ لالچ سے دیکھنے لگا اور آنکھوں میں ایسی تمنا تھی کہ اس نے کہا چلو اس کو