خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 497 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 497

خطبات طاہر جلد 14 497 خطبہ جمعہ 7 / جولائی 1995ء مالک کون ہے، حفاظت کرنے والا کون ہے، الْمُؤْمِنُ اور الْمُهَيْمِنُ (بنی اسرائیل :24) کون ہے۔اب ربوبیت کا امتحان آپڑا ہے۔اگر آپ خدا کے سوا کسی کو رب سمجھتے ہیں تو پھر اسی رب سے مانگنے نکلے ہیں۔اگر خدا ہی کو رب سمجھتے ہیں تو جو جرمنی کا رب ہے وہی پاکستان کا بھی رب ہے بالکل پرواہ نہ کریں۔چنانچہ بعض ایسے معاملات بھی میرے علم میں آئے کہ اللہ کے فضل کے ساتھ یہ عجیب بات ہے کہ جس جس نے بھی سچ بولا ہے اب تک تو سب کو اللہ نے بچالیا ہے۔یہ بعض دفعہ کمزوروں کی حمایت میں اللہ تعالی نسبتا نرم سلوک فرماتا ہے لیکن پھر بھی میں متنبہ کر دیتا ہوں کہ ضروری نہیں ہے کہ ہر کیس میں لازماً آپ کی پردہ پوشیاں ہی کی جائیں اگر اللہ نے آپ کو اس طرح آزمانا چاہا کہ اچھا واقعہ تم میری خاطر تقدیر شر کے لیے بھی تیار تھے تو آؤ پھر میں یہ بھی دیکھ لیتا ہوں۔اس کی بھی مثالیں موجود ہیں۔حضرت ایوب کی اسی طرح تو آزمائش ہوئی تھی اللہ چاہتا تو چند امتحانوں کے بعد ہی ان کو بخش دیتا۔ان کا امتحان ، ان کا ابتلا ختم کر دیتا، مگر قرآن بتا رہا ہے کہ اتنا لمبا دور امتحان کا آیا کہ عام آدمی تو عام آدمی بڑے بڑے اولیاء بھی اس سے بھاگ جائیں اور خوف زدہ ہو جائیں لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب کو خود ہی سہارا دیا، خود ہی توفیق دی۔اس لئے ابتلاؤں کا احتمال تو ہے لیکن ابتلاؤں پر اگر ثابت قدمی کی توفیق مل جائے تو بعض دفعہ یہ انعام ابتلاؤں کے بغیر انعام سے زیادہ بڑھ کر ہوا کرتا ہے بلکہ یقینا زیادہ بڑھ کے ہوتا ہے اگر ابتلاء پر کوئی قائم رہ جائے اور صبر کے نمونے دکھائے اور سر تسلیم خم کئے رکھے ، کوئی شکوہ زبان پر نہ لائے تو اس پر اللہ تعالیٰ ہمیشہ زیادہ مہربان ہوتا ہے۔تو حضرت ایوب کا بھی یہی سلسلہ تھا ایک لمبے عرصے تک آزمائش میں ڈالا اور حضرت ایوب کو ثابت قدم پایا۔یہاں تک کہ بائبل نے تو ایسا خوفناک نقشہ کھینچا ہوا ہے کہ اپنے رشتے دار چھوڑ گئے بیوی نے قطع تعلقی کر لی اور شہر والے باہر گندگی کے ڈھیر پر ڈال گئے کہ اتنی گندی بیماری ہے کیڑے پڑے ہوئے ہیں اس لئے ان کو وہاں پھینک دو اور جو لوگ نظر ڈالتے تھے وہ کراہت سے منہ دوسری طرف کر لیتے تھے لیکن اللہ نے ان کو قائم رکھا اپنی وفا کے ساتھ خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایمان، اس پر یقین محکم میں کوئی تزلزل واقع نہیں ہوا پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے نِعْمَ الْعَبْدُ (ص: 31) میرے بندے ایوب کو دیکھو ہمیشہ کے لئے ان پر سلام بھیجا گیا اتنے پیار سے ذکر ملتا ہے بار بار نِعْمَ الْعَبُدُ کیسا