خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 496 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 496

خطبات طاہر جلد 14 ساتھ تعلق قائم کرنے کی توفیق ملے گی۔496 خطبہ جمعہ 7 / جولائی 1995ء یہ جب میں نے خطبہ دیا تو اس کے بعد کئی مثالیں سامنے آئیں ایک خط اور چند دن ہوئے مجھے ملا اس میں لکھا تھا کہ آپ نے چونکہ نصیحت کی تھی کہ کسی حال میں بھی جھوٹ نہیں بولنا خواہ تمہیں واپس جانا پڑے۔تو پہلا کیس جو تھا اس میں غلطیاں ہو گئیں تھیں کئی جھوٹ بولے ہوئے تھے اور کیس بھی بڑا گندا ہوا تھا۔میں نے پھر فیصلہ کر لیا کہ اب جو کچھ بھی ہے بہر حال سچ بولنا ہے اور کہتے ہیں کہ میں جب عدالت میں پیش ہوا تو وکیل سامنے کھڑا تھا اس کے سامنے میں نے باتیں بیان کرنی شروع کیں۔حج جو پوچھتا تھا میں بالکل سوچ کر ، تول کر سچا جواب دیتا تھا۔اس عرصے میں وکیل نے کہا کہ اس کے بزرگ بھی باہر کھڑے ہیں اگر آپ کو یہ شک ہو کہ شاید اس نے کوئی جھوٹ بولا ہو وہ سن تو نہیں رہے ان کو بھی بلا لیں اور ان کو باہر بھیج کے ان سے الگ انٹرویو لے لیں پھر آپ کو اندازہ ہو جائے گا تو جج اس کی سچائی سے اتنا متاثر ہو چکا تھا کہ اس نے کہا مجھے کسی اور گواہی کی ضرورت نہیں میں جانتا ہوں یہ شخص سچ بول رہا ہے اور اس کو میں نے ضرور یہاں اسامکم دینا ہے۔اب وہ واقعات جو تھے وہ اپنی ذات میں اسامکم کمانے والے نہیں تھے لیکن سچ کی طاقت اور اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے اس کے حق میں فیصلہ فرما دیا۔لیکن تنبیہ یہ ہے کہ اس وجہ سے یہ نہ سمجھیں کہ او ہوا سائکم لینے کا طریقہ ہی یہی ہے کہ سچ بولیں تو کبھی بھی انکار نہیں ہوگا۔جب یہ خیال آپ کے دل میں آئے گا تو آپ خدا کی تقدیر پر حاکم بن جائیں گے۔دعا نہیں کر رہے ہوں گے بلکہ اسے گویا امر دے رہے ہوں گے وہاں آپ کا نسخہ فیل ہو جائے گا۔اس لئے دونوں احتمال اور امکان، دونوں طرف کے دروازے کھلے رکھیں، سچ بولیں ، یہ عرض کریں اللہ تعالیٰ سے اگر اس کے نتیجے میں دنیا جاتی ہے تو مجھے کوئی پرواہ نہیں کیونکہ سب دنیا تیری ہی ہے۔دوسرا پہلو اقتصادی پہلو ہے بعض لوگ بیچارے واقعہ سب کچھ بیچ کے جس کو پنجابی میں کہتے ہیں و پیچ وٹ کے جو غریب کی گلی ، چھوٹا سا کوئی گھر وغیرہ تھا بستر سامان سب کچھ بیچ دیا کہ اس ملک سے نکلو۔اب ان کو یہ فکر لاحق تھی ہم واپس جائیں گے کہاں، کیا کمائیں گے، کیا کھائیں گے، وہاں تو کچھ بھی نہیں رہا۔ان سے میں نے کہا اب یہاں ربوبیت کا امتحان ہے پہلے اس بات کا امتحان تھا کہ