خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 495
خطبات طاہر جلد 14 495 خطبہ جمعہ 7 جولائی 1995ء تھی کہ اسائکم کی خاطر اگر آپ جھوٹ بولیں گے تو آپ کی ہجرت ضائع ہو جائے گی کوئی بھی فائدہ نہیں ہوگا اور نہ ادھر کے رہے اور نہ اُدھر کے رہے، گھر بار بھی گیا اور دین و دنیا سے بھی جاتے رہیں گے۔اسامکم کی خاطر اگر آپ جھوٹ بولتے ہیں تو اس میں دو طرح کی ایسی باتیں ہیں جن میں آپ ناکام ہوئے۔اول یہ کہ واپس جانے کا یہ خوف کہ گویا خدا یہاں تو آپ کو امن دے سکتا ہے وہاں امن نہیں دے سکتا یہ شرک کی ایک قسم ہے۔خدا کی تقدیر ہے کہ خوف کے مقام سے دوسری طرف چلے جاؤاس تقدیر کے تابع آپ نے سفر شروع کیا۔دوسری تقدیر یہ ہے کہ جھوٹ نہیں بولنا اور بچے خدا پر تو کل کرنا ہے۔اگر اس کا امن تمہیں ایک جگہ میسر نہیں آتا تو دوسری جگہ بھی نہیں آئے گا۔اس لئے امین خدا کی ذات ہے اس کے سائے تلے تم نے حرکت کرنی ہے۔اگر یہ باتیں سچی ہیں تو ہجرت سچی ہے اگر یہ نہیں ہیں تو ہجرت جھوٹی ہے پھر وہ ایک مشرک کی ہجرت بن جاتی ہے۔چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک موقع پر اسی طرح سوال کیا گیا تھا ایک وادی میں آپ نے پڑاؤ ڈالا پتا چلا کہ وہاں پلیگ کی طرح کی کوئی بیماری پھیلی ہوئی ہے جو بہت ہی مہلک اور وبائی ہے اور آنا فانا بلاک کرتی ہے۔آپ نے اسی وقت کوچ کا حکم دے دیا کہ ایک منٹ بھی یہاں نہیں ٹھہر نا ہجرت کر جاؤ ، ایسی وادی میں جاؤ جو صحت مند فضا رکھتی ہو تو ایک صحابی نے عرض کیا اے امیر المومنین ! کیا آپ خدا کی تقدیر سے بھاگ رہے ہیں اس کا تصور اتنا ہی تھا۔آپ نے فرمایا۔ہاں میں خدا کی تقدیر سے خدا کی تقدیر کی طرف بھاگ رہا ہوں تمہیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ وہاں بھی تو خدا کی تقدیر ہے۔ہمیں نظر آ رہا ہے کہ یہاں تقدیر شر ہے وہاں نظر آ رہا ہے کہ وہاں تقدیر خیر ہے بڑا ہی بے وقوف ہوگا جو تقدیر شر میں بیٹھ رہے کہ یہ خدا کی تقدیر ہے اسے چاروں طرف تقدیر خیر بھی تو دکھائی دینی چاہئے۔کیسا عمدہ اور کیسا گہرا پر حکمت جواب تھا۔تو خدا کی تقدیر سے بھاگنا تبھی جائز ہے اگر خدا کی تقدیر کی طرف ہو جہاں جھوٹ بولا خدا کی تقدیر کی بجائے شیطان کی تقدیر کی طرف ہجرت ہوگی۔یہ ہے جو باریک مسئلہ سمجھنا ضروری ہے۔بھا گنا منع نہیں تھا مگر اس یقین کے ساتھ کہ جہاں بھی میں جاؤں گا خدا کی تقدیر ہی کی طرف جاؤں گا لیکن اگر رستے میں پتا لگے کہ اوہو اللہ کی تقدیر وہاں تو بغیر جھوٹ بولے مل ہی نہیں سکتی تو پہلے شیطان سے جھوٹا سرٹیفکیٹ حاصل کرلوں۔سرٹیفکیٹ تو مل جائے گا مگر تقدیر اُٹھ جائے گی۔یہ وہ باریک پہلو ہیں جھوٹ کے جن پر نظر رکھیں تو پھر آپ کو حق کے