خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 493
خطبات طاہر جلد 14 493 خطبہ جمعہ 7 جولائی 1995ء آپ کی تائید میں اترے گا اور جب آپ سے آزمائش لے گا یا آپ کی آزمائش کرے گا تو آپ کو طاقت بھی دے گا، آپ کو سہارا بھی دے گا کہ اس میں سے کامیابی سے گزر جائیں اور نا کام نہ ہوں اور یہ بھی اس رستے کی مشکلات ہیں یا آزمائشیں ہیں جن سے گزرنا پڑتا ہے۔اگر یہ نہ ہوں تو پھر ہر کس و ناکس اسماء الہی کی طرف دوڑے گا اور سوسائٹی کی چھان بین نہیں ہو سکتی کہ کون سچا ہے کون جھوٹا ہے۔جہاں لگے ہاتھوں فائدہ ہی فائدہ ہو وہاں تو بعض دفعہ جو نسبتا کم کردار لوگ ہیں وہ زیادہ جلدی پہنچا کرتے ہیں تو صفات الہی میں ہر قسم کے Valves اللہ تعالیٰ نے رکھ دیئے ہیں۔یہ مضمون ایسا ہے جہاں Safety Valves لگائے گئے ہیں۔باہر سے لوگ جو دیکھتے ہیں، ان کو آپ کے روحانی تجربات دکھائی نہیں دے رہے ہوتے ان کو صفات باری تعالیٰ سے تعلق جوڑنے والوں کی مشکلات نظر آ رہی ہوتی ہیں۔وہ یہ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ فلاں جگہ مقدمے ہوئے اتنے آدمی ان کے پکڑے گئے یہ مصیبت پڑی جھوٹ نہ بولیں تو ان کے کام نہیں بن سکتے۔تو وہ ساری مصیبتیں جو باہر کی آنکھ دیکھ رہی ہے وہ گندوں کو پرے رکھنے کے لئے ہے۔اور ایک مومن کی اندر کی آنکھ ہے وہ بتا رہی ہے کہ باہر والے جس کو جہنم سمجھ رہے ہیں اس کے اندر تو رحمت ہی رحمت ہے اور اسی مضمون کو قرآن کریم میں دوسری جگہ اللہ تعالیٰ یوں بیان فرماتا ہے کہ بعض بد اور بعض نیکوں کے درمیان مرنے کے بعد ایک مکالمہ ہو گا بد لوگ یہ کہیں گے کہ اپنا نور ہمیں بھی تو دو ہم بھی اس سے کچھ فائدہ اٹھائیں۔تم جو آگے بڑھ رہے ہو خدا کی راہوں میں ہمارا بھی کچھ انتظار کر وہم بھی تمہارے نور سے فائدہ اٹھائیں تو ان کو وہ جواب دیں گے کہ تم واپس لوٹ جاؤ جو نور تم چھوڑ آئے ہو وہ اب تمہیں مل نہیں سکتا اور اس کے بعد ان کے درمیان ایک دیوار قائم کر دی جائے گی اور اس میں ایک دروازہ ہوگا۔دیوار کی تو سمجھ آگئی کہ روک بن گئی لیکن دروازہ کیوں ہے اس لئے کہ مغفرت کا تقاضا ہو گا کہ کئی ان میں سے بالآخر اس دروازے سے اندر جاسکیں اگر دروازہ ہی کوئی نہ ہوتو پھر تو ہمیشہ کے لیے وہ برباد ہو گئے۔پھر فرمایا کہ وہ دیوار عجیب ہے کہ اس کے باہر کی طرف تو جہنم ہے اور بہت تکلیف دہ صورتحال ہے۔اندر آئیں تو رحمت ہی رحمت ہے۔تو یہی وہ مضمون ہے جو میں آپ پر کھول رہا ہوں کہ خدا کی راہ میں کوششیں کرنے والوں کے ساتھ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ کوششیں کرتے ہیں تو ابتلا بھی آتے ہیں لیکن اللہ ان ابتلاؤں کو ٹال بھی دیتا ہے اور اس کے نتیجے میں اتنا رحمت کا