خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 492
خطبات طاہر جلد 14 492 خطبہ جمعہ 7 / جولائی 1995ء اپنی ملکیت کی شان آپ کے حق میں دکھائے اور جو آپ چاہتے ہوئے بھی خدا کی خاطر کرنے سے رک گئے تھے وہ اللہ آپ کے لئے جاری فرما دے۔پس وہ جو مثال تھی حضرت میر صاحب کی اس میں یہ بات بھی بڑی کھل کے سامنے آ گئی۔جانتے تھے کہ اندر سے حق یہ ہے کہ اس کو سز انہیں ملنی چاہئے جانتے تھے کہ میں بے اختیار ہوں میں مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ نہیں ہوں اس لئے مالک کا کام مالک کے سپرد کروں جو میرا کام ہے میں اتنا ہی کروں اور پھر مالک سے مانگوں اور مالک رحیم ہے عدل سے بالا رحیم ہے یعنی عدل کے تقاضوں کو قربان کر کے رحیم نہیں بلکہ عدل کے تقاضوں سے بڑھ کر دینے والا ہے۔پس اس پہلو سے جو خدا کی شان ظاہر ہوئی ہے وہ غیر معمولی تھی کوئی اتفاقی حادثہ نہیں تھا۔یہ اعجاز تھا ایک کہ ایک دن پہلے دستخط کرنے سے اس کا فوری تبادلہ کر دیا جاتا ہے اور جو دوسرا آتا ہے وہ معاملہ فہم ہے اور قانون اس کو اجازت بھی دیتا کہ معاف کر دے۔پس خدا تعالیٰ سے تعلق جوڑنے کے لئے حق پر قائم ہونا ضروری ہے جس کا ایک دوسرا نام عدل بھی ہے اور ان تمام صفات کے حوالے سے آپ پر جو آزمائشیں آئیں ان پر پورا اتریں گے تو پھر آخر آپ اس خدا سے تعلق جوڑ لیں گے جو تمام تر حق ہے اور آپ کی تائید میں پھر وہ ایسے نشان دکھائے گا جس کی کوئی مثال اس دنیا میں دکھائی نہیں دیتی۔یہ جو میں آپ کے سامنے باتیں بیان کر رہا ہوں، آئے دن اس کی مثالیں میرے سامنے آنی شروع ہوگئی ہیں۔کئی احمدی لکھ رہے ہیں کہ آپ نے فلاں خطبے میں خدا کی فلاں صفت کا ذکر کیا ، فلاں اسم کی تشریح کی ، ہمیں پہلے علم نہیں تھا کہ یوں ہونا چاہئے۔ہم نے جب اس کے مطابق کیا تو اللہ کا یہ احسان ہم پر نازل ہوا۔یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے قرب کا ایسا نشان دکھایا گیا جو ہمارے سامنے یوں لگتا تھا کہ ہم نے آمنے سامنے اس حقیقت کو پالیا ہے کہ خدا کے جس اسم سے تعلق قائم کریں اس کا پھل ضرور ملتا ہے۔پس وہ شجر جو پھل دار ہو جائے اس شجر کو آپ جھوٹا کیسے کہہ سکتے ہیں وہ حق ہی حق ہے۔اور خدا تعالیٰ کا جو شجر ہے جو خدا تعالیٰ کی صفات کے نتیجے میں قائم ہوتا ہے وہ ثمر دار بھی ہے اور ہر موسم میں پھل لانے والا ہے۔اس لئے آپ ان باتوں پر غور کر کے، سمجھ کر عمل شروع کریں تو پھر دیکھیں کہ یہ کوئی فرضی تسبیح کے موتی پھیرنے والے صوفی نہیں بنیں گے۔ایسے اللہ سے تعلق رکھنے والے بنیں گے جیسے ایک عاشق اور معشوق کا گہرا تعلق ہوتا ہے اور پھر وہ آکے سارے کام بنائے گا،