خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 491
خطبات طاہر جلد 14 491 خطبہ جمعہ 7 / جولائی 1995ء کوئی جرم نہیں کیا مگرنہ بھی کیا ہوتو رحیم خدا سے اپنا تعلق تو کاٹ لیا اور اس کے نتیجے میں بہت سی باتوں سے محروم رہ گئے اور رحیمیت کا جو حق سے تعلق ہے اس مضمون میں آپ ڈوبے تو آپ کو وہ دکھائی دینے لگا۔قانون کا عذر حق نہیں ہے۔حقیقت حال کی تہہ میں اترنا اور کسی معاملے کو سمجھ کر اس کے مطابق اس کا سلوک کرنا یہ حق ہے اور یہی سچائی ہے۔پس اللہ تعالیٰ اگر اسی طرح عذر رکھ کر کہ تم نے یہ کام اتنا کر لیا اس کی مزدوری مل گئی اگر اپنی مخلوقات سے سلوک کرتا تو ساری مخلوق بھوکی مرجاتی یا کچھ بھی اس کو حاصل نہ ہوتا۔بعض دفعہ ایک انسان میں زیادہ کرنے کی طاقت ہی نہیں ہوتی اور ضرورتیں زیادہ ہیں۔اللہ رحیمیت میں اس بات پر نظر رکھتا ہے کہ جتنا کسی نے کچھ کیا ہے ، تو فیق کے مطابق کر دیا اب میں ضرورت کے مطابق اس کو دوں اس لئے رحیمیت کا صرف یہ مطلب کرنا کہ پورا پورا بدلہ دیتا ہے یہ درست نہیں ہے۔اس میں تو رحم کی کوئی بات نہیں وہ تو عدل کا معاملہ ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مضمون کو کھول چکے ہیں کہ اللہ کو مالک کے طور پر پیش فرمایا گیا ہے عادل کے طور پر نہیں اگر چہ مخلوق کے حوالے سے اس نے عدل کے نظام کو عام کر دیا۔کوئی بھی مخلوق عدل کے تقاضوں سے باہر نہیں رکھی لیکن خود عدل سے بالا ہے۔جس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ غیر عادل ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ عدل کے تقاضوں سے بڑھ کر دینے والا ہے رحمن بھی ہے رحیم بھی ہے اور مالک بھی ہے اس لئے ناپ تول کے نہیں دیتا جتنا کوئی کرتا ہے اتنا تولا ز ما اس میں شامل ہوگا اگر وہ زیادہ دیا جائے گا۔اس لئے اس کو عادل نہیں کہتے اس کو محسن کہہ دیں گے اِيْتَائِ ذِي الْقُرُبی کا سلوک کرنے والا کہہ دیں گے مگر اگر وہ ناپ تول کر برابر دے تو پھر وہ عادل کہلائے گا اور اس لحاظ سے اس کو پھر ہر گناہ کی سزا بھی دینی پڑے گی وہاں بھی مالکیت کام آتی ہے۔ہم اگر ہمارے سامنے گناہ آئیں یا جرائم پیش ہوں اور ہم قانون کی نمائندگی میں فیصلہ کرنے کی کرسی پر بٹھائے جائیں تو ہم چونکہ مالک نہیں ہیں اس لئے وہ فیصلہ نہیں کر سکتے۔یعنی ایسا فیصلہ نہیں کر سکتے جو کسی پہلو سے بھی ظاہری عدل کے خلاف ہو۔بیچ میں جو کچھ بھی ہو ہم مجاز نہیں ہیں اور حقیقی مجاز اللہ ہی ہے۔اس وجہ سے اگر آپ بات کو سمجھنے کے باوجود سمجھتے ہیں کہ حق کے اندر یہ ہے لیکن خدا ہی کے بنائے ہوئے قوانین کے تابع مجبور ہیں کہ اس حق کو جاری نہیں کر سکتے تو آپ کا کام یہاں ختم ہو جاتا ہے۔پھر مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ کا کام شروع ہو جاتا ہے پھر اس کا کام ہے کہ