خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 486 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 486

خطبات طاہر جلد 14 486 خطبہ جمعہ 7 / جولائی 1995ء تاریخی واقعہ ہے میں اس کی درستی کرنا چاہتی ہوں۔جب انہوں نے بیان کیا تو مجھے بھی یاد آ گیا کہ اسی طرح میں نے بھی بچپن ہی میں سنا تھا اس لئے اس واقعہ کی تصحیح ہونی چاہئے مگر جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اور بھی بارہا ایسی باتیں ہوتی ہیں جو بنیادی طور پر غلط نہیں مگر کچھ ستم رہ جاتے ہیں۔اصل واقعہ یہ تھا کہ ایک حد تک حضرت مصلح موعود کا بیان چلتا ہے بعد کے ایک واقعہ کا حضرت مصلح موعود کو یا علم نہیں ہوا یا اس وقت ذہن سے اتر گیا ہے۔جس ڈپٹی کمشنر کی بات ہو رہی تھی کہ وہ بہت ہی سختی سے انصاف چاہتا تھا اپنے نام و نمود کی خاطر، انصاف کی خاطر نہیں یا برٹش حکومت کا رعب قائم کرنے کے لئے نہ کہ حصول انصاف کے لئے حضرت مصلح موعود کو جو تاثر تھا وہ یہ تھا کہ کسی ڈپٹی کمشنر نے وہ فیصلہ دیا جو اصل واقعہ ہے وہ اس طرح نہیں ہے۔واقعہ یہ ہے کہ جب اس ڈپٹی کمشنر نے جس کے متعلق مشہور تھا کہ یہ حکومت کا نام و نمود قائم کرنے اور اپنے انصاف کا چرچا کرنے کی خاطر بعض دفعہ ضرورت سے زیادہ غیر منصفانہ تحتی کرتا ہے۔اس کی عدالت میں حضرت میر حامد شاہ صاحب سپر نٹنڈنٹ تھے اور اس زمانے میں ایک انگریز ڈپٹی کمشنر کی عدالت میں سپرنٹنڈنٹ ہونا آج کل کے چیف سیکرٹری ہونے سے بھی بڑی بات کبھی جاتی تھی۔اس نے یہ سوچا کہ ان کے بیٹے سے ایک قتل ہو گیا ہے مشہور یہ ہوا ہے مقدمہ پیش ہو گیا ہے اور اگر میں نے اس کے حق میں فیصلہ دے دیا تو میری بدنامی ہوگی کہ میں چونکہ اپنے سپر نٹنڈنٹ سے تعلق رکھتا ہوں،اس کا لحاظ کرتا ہوں، اس کی لحاظ داری کی خاطر میں نے انصاف چھوڑ دیا۔تو اس بات پر تلا بیٹھا تھا کہ میں ضرور اس کو پھانسی چڑھاؤں گا اور حضرت میر صاحب پر اتنا اعتمادتا سچائی کے لحاظ سے کہ خودان کو بلایا اوران سے کہا کہ یہ واقعہ سنا ہے کہ ایسے ہوا ہے۔انہوں نے کہا سنا تو میں نے بھی ہے مگر میں موقع پر موجود نہیں تھا تو انہوں نے کہا کہ پھر اگر اس نے کیا ہے تو اپنے بیٹے کو کہو کہ سچ بولے۔میر صاحب نے اپنے بیٹے جن کا نام سید سعید احمد تھا ان کو بلا کر نصیحت کی اور انہوں نے وعدہ بھی کر لیا۔یہاں تک تو بات درست ہے اسی طرح تھی۔اگلی بات جو سہو حضرت مصلح موعودؓ سے بیان کرنی رہ گئی وہ یہ تھی کہ سید احمد پر جب اس کے دوستوں اور سیالکوٹ کے اور بااثر خاندانوں نے زور ڈالا اس کو کہا کہ تم اپنے باپ کی باتوں میں آ کر کیوں اپنی جان کھوتے ہو تم جانتے ہو کہ قتل عمد نہیں ہے۔اس لئے عدالت میں کبھی ہاں نہ کرنا، اس کے بغیر ثبوت ہی کوئی نہیں ہے۔اگر تم منکر ہو گئے تو عدالت تمہارے خلاف فیصلہ دے ہی