خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 480
خطبات طاہر جلد 14 480 خطبہ جمعہ 30 جون 1995ء پھر اوپر سے پوری ہوگی۔پھر اللہ صاحب حمد بنائے گا اور ایسے شخص کو کسی جھوٹ کے سہارے کی ضرورت ہی کوئی نہیں رہتی ہے اگر ربوبیت کی تمام تر صفات اللہ کی طرف منسوب ہو جائیں اور یقین کیا جائے کہ اللہ ہی ہے جو رزق عطا فرمانے والا ہے اور اگر وہ نہیں عطا فرما تا تو میں کسی اور سے نہیں مانگوں گا اور کسی اور رزق کے سامنے سر جھکا کر شرک نہیں کروں گا۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا جو وعدہ بعد میں آنے والا ہے یہ وہی مضمون ہے۔اللہ کو رب مان جائیں اور پھر کسی اور کی طرح توجہ نہ کریں تو پھر آپ ربوبیت کے معاملے میں خدا کی صفت ربوبیت کے حصہ دار بن جاتے ہیں پھر آپ کو وہ لوگوں کی پرورش کرنے والا بناتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ایک دور مجھ پر یہ تھا کہ دستر خوان کے بچے کھچے ٹکڑے کھایا کرتا تھا یہی میری غذا تھی۔آج دیکھولا کھوں ہیں جو میرے دستر خوان سے کھانا کھارہے ہیں۔تو جو رب کی خاطر غریب ہو جاتے ہیں ان کو اللہ پھر ربوبیت کی صلاحیتیں عطا کرتا ہے، ان کو ربویت کا مظہر بناتا ہے، ان کے لنگر جاری کرتا ہے اور اس وقت تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک سو سے زائد ممالک میں لنگر جاری ہو چکے ہیں۔اب یہ جلسہ جاری ہوگا یہ وہی لنگر ہے جو آپ دیکھیں گے۔تو دیکھیں خدا تعالیٰ کس طرح تھوڑی تھوڑی قربانی کو اتنا بڑھا کر دیتا ہے۔پس جور بوبیت میں اپنے رب کے ساتھ تعلق قائم کر چکا ہو جس کی ساری ضرورتوں کا اللہ کفیل ہو چکا ہو جسے وہ آسمان سے آواز دے کہ آلیس اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ (الزمر: 37) اے باپ کی جدائی کا غم کرنے والے کیا تو جانتا نہیں کہ اللہ اپنے بندے کے لئے کافی ہے۔اس کو پھر جھوٹ کی کیا ضرورت ہے۔جب بچے خدا سے اس نے رزق کی ساری ضرورتیں مانگ لیں اور اسے اپا کفیل بنالیا۔پس ربوبیت میں بھی آپ کو خدا سے تعلق جوڑ کر ہی حق بننا پڑے گا۔ربوبیت کے تعلق میں بھی آپ ہمیشہ خطرے میں ہیں کہ آپ جھوٹ بولیں کیونکہ ربوبیت کی ضرورت ہر انسان کو ہے لیکن سچے رب سے جب تعلق باندھ لیں گے تو آپ کو جھوٹ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔اسی طرح یہ مضمون آگے بڑھتا ہے۔چونکہ اب وقت ختم ہو چکا ہے میں اسے چھوڑتا ہوں۔مگر آخر پر یہی میرا زور ہے کہ آپ اپنے اندر اگر انقلاب کی صلاحیتیں پیدا کرنا چاہتے ہیں، آپ کی مٹھیوں میں وہ تار تھمائے جائیں جو