خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 473 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 473

خطبات طاہر جلد 14 473 خطبہ جمعہ 30 جون 1995ء کی زندگی میں آپ کے اندر، آپ کے ماحول میں ، آپ کے گھروں میں موجود نہیں تو تبلیغ کے موقع پر کبھی آپ کا ساتھ نہیں دے سکتا۔جب روز مرہ کی زندگی میں انسان یا اس کے بچے جھوٹ کے عادی ہو جائیں۔چھوٹی چھوٹی باتوں میں اور کچھ نہیں لطیفے بنانے کی خاطر زیب داستاں کے لئے ہی ایسا جھوٹ بولیں کہ جس کا یہ اثر پڑے کہ واقعہ اسی طرح ہوا تھا۔ایک ہے کہانی یا لطیفہ وہ تو ہوتا ہی جھوٹ ہے لیکن اس کے متعلق قرآن کریم میں کہیں مناہی نہیں ہے۔کہانیاں بھی حد اعتدال کے طور پر انسانی فطرت ہے لیکن کہانی یہ کہ کر نہیں بیان کی جاتی کہ سچا واقعہ مان جاؤ کہانی کہانی کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔لطیفہ لطیفے کے طور پر ہی پیش کیا جاتا ہے اور اس میں لوگ دلچسپی بھی لیتے ہیں اور ہنتے بھی ہیں لیکن سچا سمجھ کے نہیں۔میں جو بات کر رہا ہوں وہ یہ ہے کہ وہ لوگ جن کو عادت ہوتی ہے ایک جھوٹی بات بنا کر کچی دکھا کر اس پر بعض لوگوں کے متعلق ہنسی پیدا کر لیں۔یہ ایک بڑی دلچسپ بد عادت ہے جو ہماری سوسائٹی میں ملتی ہے۔کسی شخص کے مذاق اڑانے کی خاطر، اس کی تخفیف کرنے کے لئے تحقیر کرنے کے لئے ،اس کے متعلق لطیفے بنائے جارہے ہیں اور اس کو اس طرح سوسائٹی میں شہرت دیتے ہیں گویا سچے واقعات اسی قسم کے ہوئے تھے اور دوہری تہری گندگی ہے۔اس میں غیبت بھی آجاتی ہے، جھوٹ بھی آجاتا ہے اور ایسی لغو چیز ہے جس کے ساتھ تکبر بھی شامل ہے۔اپنے بھائی کی تخفیف آپ کے اپنے تکبر کو ظاہر کرتی ہے اور ایسی سوسائٹی میں پھر سچ پنپ نہیں سکتا۔پس بعض دفعہ بظا ہر سچ کو بھی شکست ہوتی ہے لیکن اگر آپ غور کر کے دیکھیں تو سچ کو شکست نہیں جھوٹ ہی کو ہوئی ہے۔وہ جھوٹ تھا جس نے آپ کو کھا لیا جس نے آپ کے رگ وریشہ میں زہر پھیلا دیا اور جھوٹ آپ پر غالب آ گیا کیونکہ آپ جھوٹے تھے اور جھوٹ کی تائید کرنے والے تھے۔پس اگر آپ بار یک نظر سے اتر کے اس صورتحال کا تجزیہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ حق جھوٹ پر غالب آیا کرتا ہے، جھوٹ حق پر نہیں آیا کرتا۔جھوٹ غالب آتا ہے تو جھوٹے پر آتا ہے اور جھوٹے پر جھوٹ ہی کو غالب آنا چاہئے۔پس اس پہلو سے اگر آپ اپنی سوسائٹی کی تطہیر نہیں کرتے تو جماعت کی حیثیت سے کامیاب داعی اللہ نہیں بن سکتے۔جن لوگوں کی مثال میں نے آپ کے سامنے رکھی ہے یعنی ذہنی طور پر