خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 471
خطبات طاہر جلد 14 471 خطبہ جمعہ 30 جون 1995ء اند را نقلاب برپا کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔وہ جتنی زیادہ بات کرتے ہیں اتنی جھاگ اڑاتے ہیں سیلاب میں حق بھی ہے اور باطل بھی ہے دونوں کو گو یا اکٹھا کر کے جس طرح پنجابی میں کہتے ہیں مدھانی میں پرڈک دیتے ہیں چیز کو اللہ وہ نقشہ کھینچ رہا ہے کہ سیلاب میں تمہیں لگتا ہے کہ حق اور باطل پرڈ کے گئے ہیں آپس میں، ایک قیامت برپا ہوگئی ہے لیکن نقصان حق کا نہیں ہوتا حق ضرور غالب آتا ہے کیونکہ اس کے اندر صبر کا مادہ ہے۔وہ مضبوطی سے صبر دو طرح سے دکھاتا ہے۔ایک یہ کہ حق والا حق پر قائم رہتا ہے اور کسی قیمت پر حق کا دامن نہیں چھوڑتا۔یہ جو صلاحیت ہے مقابلے کے وقت جھوٹ نہ بولنا اور اور جھوٹ کا سہارا نہ لینا یہ دلائل میں قوت اور عظمت پیدا کر نیوالی بات ہے۔وہ تمام لوگ جو کج بحث ہیں ان کی کج بحثی ہمیشہ جھوٹ سے پیدا ہوتی ہے۔ایک آدمی دلیل میں ہار رہا ہو اور اپنے نفس کی خجالت چھپانے کے لئے ، اپنی شرمندگی دور کرنے کے لئے وہ کوئی بہانہ بنانے پر آمادہ ہوتا کہ میں وقتی طور پر اس کے مقابلے میں ہارا ہوا دکھائی نہ دوں وہ جھوٹا ہے کیونکہ مقابلہ حق اور باطل کا ہے حق اور باطل کے مقابلہ میں، جہاں بھی آپ نے حق کا ساتھ چھوڑا اور اپنے آپ کو حق پر دکھانے کے لئے جھوٹ بولا وہیں حق سے آپ کا دامن چھوٹ گیا، آپ کا تعلق جاتا رہا۔پس ایسی صورت میں پھر مولوی پیدا ہوتے ہیں، کج بحث لوگ پیدا ہوتے ہیں۔دلیل نہ ملے تو پھر جھوٹی باتوں کا سہارا ڈھونڈتے ہیں اور ایسے لوگوں کے منہ سے جو جھاگ اڑتی ہے۔اسی کا تو نقشہ قرآن نے کھینچا ہے کہ جھاگ کا کوئی فائدہ نہیں ہوا کرتا۔جتنی مرضی تقریریں کر لو جو کج بحث ہے وہ کوئی تبدیلی پیدا نہیں کر سکتا۔تھوڑی بات کرنے والا اگر بظاہر دب بھی گہا اور مقابل پر بہت ہی لسان آدمی ہو مگر ہو جھوٹا تو خدا تعالیٰ نے انسان میں ایک بیان کی طاقت رکھی ہے۔عَلَّمَهُ الْبَيَانَ (الرحمن : 5) میں ایک یہ بھی معنی ہے کہ اس نے انسان کو پیدا فرمایا اور اس میں ایک کھرے کھوٹے کی تمیز کی صلاحیت رکھ دی۔پس لوگ ہمیشہ بچے کو پہچان لیتے ہیں اور تھوڑی بات کرنے والا سچا زیادہ بات کرنے والے جھوٹے پر غالب آجاتا ہے۔اگر فوری طور پر اس کا نتیجہ نہ بھی ظاہر ہو تو کچھ دیر کے بعد ان کے دلوں میں یہ بات گھلتی رہتی ہے اور بالآخر وہ پہنچ جاتے ہیں۔بار ہا ایسا ہو چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ایسے مخلصین جو کم گو تھے مگر سچے تھے بحثوں میں بظاہر ہار گئے دوسرے دشمن نے شور ڈال کر ان پر غلبہ حاصل کر لیا لیکن بعد میں وہاں کے