خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 470 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 470

خطبات طاہر جلد 14 470 خطبہ جمعہ 30 جون 1995ء میں کیوں نہیں ہو سکتا اور برمنگھم میں کیوں نہیں ہو سکتا۔ہوسکتا ہے، خدا کی یہ بات بہر حال کچی ہے۔اللہ تعالی فرماتا ہے حق اور باطل کی یہ جو مثال ہم بیان کر رہے ہیں اس میں حکمتیں ہیں اس پر غور کرو۔حق تو ہے تمہارے پاس لیکن سو یا ہوا حق نہیں چاہئے۔ٹھنڈے مزاج کا حق نہیں چاہئے اٹھ کھڑا ہو، بیدار ہو جائے اس میں ہیجان پیدا ہو جائے پھر دیکھو کہ کس طرح غیر پر غالب آتا ہے۔اور اس سلسلے میں جب حق اٹھتا ہے تو اس کے ساتھ کچھ اور صفات کی بھی ضرورت پیش آتی ہے۔قرآن کریم نے ان صفات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے۔وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (العصر : 4) جب بیداری پیدا ہوتی ہے، جھاگ اٹھتی ہے تو وہ مثال دی گئی جس میں کوئی کسی چیز میں تکلیف محسوس کرنے کا مادہ نہیں ہے اور جب زندہ چیزوں پر اس کی مثال اطلاق پاتی ہے تو پھر تکلیف بھی پیدا ہوتی ہے وہ لوگ جو جوش میں جوش دکھاتے ہیں ایک مقابل کا طوفان اٹھالاتے ہیں اور وہ طوفان قرآن کریم بیان فرماتا ہے کہ جھوٹ کا ہوتا ہے۔باطل کا طوفان بر پا کرتے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ اس کے ذریعے حق کو دبا دیں۔تو ایک بڑی شدید جد و جہد شروع ہو جاتی ہے۔اس وقت پھر اللہ تعالیٰ کیا کرتا ہے، فرمایا پہلے تم اپنا حق ادا کرو پھر معاملہ اللہ پر چھوڑ دو۔حق حق کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا یہ قطعی بات ہے۔اللہ کا ایک نام حق ہے۔تم حق کے پجاری ہو جاؤ ، حق کے انصار بن جاؤ ، حق کی خاطر اپنے آپ کو جھونک دو اور یاد رکھو کہ تمہارے لئے جو خطرات ہوں گے اللہ ان میں تمہارا نگران ہوگا، تمہارا محافظ ہوگا۔تمہیں کامیابی سے نکال لانے والا ہوگا۔پھر ان میں ڈرنے کی ضرورت نہیں۔مگر اس سے پہلے ایک صبر کا دور ہے فرمایا۔وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وہ حق کی نصیحت کرتے ہیں اور حق سے نصیحت کرتے ہیں۔مبر کی نصیحت کرتے ہیں اور صبر سے نصیحت کرتے ہیں۔یہ ”ب“ کا لفظ بیک وقت دونوں معانی پیدا کر گیا۔حق کی خاطر جھوٹ نہیں بولتے پہلا یہ مضمون ہے جب حق کی نصیحت کرتے ہیں تو اپنی نگرانی کرتے ہیں کہ وہ حق کو غالب کرنے کی خاطر ہرگز کسی قسم کا جھوٹ نہ بولیں اور یہ ایک بہت ہی اہم شرط ہے کامیاب داعی الی اللہ کے لئے۔میر اوسیع تجربہ ہے کہ وہ لوگ جو بچے ہوں وہ تھوڑی بات بھی کہیں تو ان میں زیادہ طاقت ہوتی ہے ان میں انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے وہ لوگ جو زیادہ بات بھی کریں ان کے