خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 466
خطبات طاہر جلد 14 466 خطبہ جمعہ 30 جون 1995ء اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ که ای طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے اس پر غور کروتو تمہیں سمجھ آئے گی حق کیا ہے، باطل کیا ہے اور حق اور باطل کا آپس میں کیا ربط ہے وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللهُ الْأَمْثَالَ اسی طرح اللہ مثال پیش کیا کرتا ہے۔میں گزشتہ خطبے میں بھی مضمون بیان کر چکا ہوں کہ حق کا تبلیغ سے بہت گہرا تعلق ہے اور یہ جو اللہ تعالیٰ نے مثال بیان فرمائی ہے۔اس میں دراصل کامیاب دعوت الی اللہ کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور ان مخالفتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے جو آسمان سے پانی اترنے کے نتیجے میں ضروری ہوتی ہیں اور نقشہ ایسا خوبصورت کھینچا گیا ہے کہ اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ جہاں یہ شور پڑے گا وہاں فائدہ بھی ہوگا اور جہاں خاموشی رہے گی وہاں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔چنانچہ فرماتا ہے فَسَأَلَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا وادیاں اپنی اپنی توفیق کے مطابق سیلاب دکھاتی ہیں۔بارش تو ہر جگہ برابر اترتی ہے لیکن جن وادیوں میں یہ توفیق ہے کہ اس کے پانی کو سمیٹیں اور پھر زور سے بہائیں وہاں یہ نظارے دیکھتے ہیں اور جہاں یہ نظارہ نہیں دیکھتے وہاں کوئی خاص باقی رہنے والا فائدہ بھی دکھائی نہیں دیتا ہے۔پس اس میں جو Excitement کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ایک ہنگامے کا شور، ایک جوش و خروش کا وہ تبلیغ کے مضمون پر بعینہ چسپاں ہوتا ہے۔جن علاقوں میں ٹھنڈا ٹھنڈا معاملہ چلا آرہا تھا۔سال ہا سال سے بعض علاقوں میں پچاس سال سے کوئی شور نہیں تھا اور کوئی تبلیغ نہیں ہو رہی تھی۔جب شور پڑا ہے تو پھر جھاگ بھی اٹھی ہے اور یہ جھاگ پانی پہ تو دکھائی نہیں دیتی مگر مخالفت ملاں کے منہ پر دکھائی دیتی ہے۔یہ نقشہ جو ہے واقعی طیش میں آکر جو تقرریں پھینکتے ہیں تو منہ سے جھاگ برس رہی ہے اور یہ نقشہ جو ہے روحانی طور پر یہ کس طرح جھاگ دکھائی دیتی ہے وہ آنکھوں کے سامنے نظر آرہا ہوتا ہے۔جہاں یہ جھاگ دکھاتے ہیں اور جوش دکھاتے ہیں ان کی جھا گیں تو ضائع چلی جاتی ہیں۔کوئی بھی فائدہ نہیں پہنچا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس جوش و خروش کے نتیجے میں زرخیز مٹی ضرور اٹھتی ہے اور وہ زمین کو فائدہ پہنچانے لگتی ہے اور بہت سے قیمتی اجزا جو انسانی سوسائٹی میں مدفون ہوتے ہیں وہ صلاحیتوں کی طرح ہیں۔ان میں بڑی اچھی اچھی صلاحیتیں ہیں لیکن عملاً حرکت میں نہیں آ رہی ہوتیں، جب یہ مخالفت کا جوش اٹھتا ہے اور آپ دیکھتے ہیں کہ ایک سیلاب کی سی کیفیت پیدا ہوگئی ہے تو وہ دبی ہوئی