خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 465 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 465

خطبات طاہر جلد 14 465 خطبہ جمعہ 30 جون 1995ء ہو گئے۔جب کہتے ہیں وادیاں بہن نکلیں تو مراد ہے کہ اتنا پانی آیا کہ وادیوں میں پانی کے دریا بہہ پڑے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر وادی اپنی توفیق کے مطابق بھر جاتی ہے اور بہنے لگتی ہے۔فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَّابِیا اور یہ جو سیلاب ہے یہ جھاگ بھی بہت اُٹھا تا ہے۔ایسی جھاگ جس کے اندر او پر آنے کی خاصیت ہے۔جو اس کے نیچے پانی ہے یا اور وزنی معدنیات ہیں یا زرخیز مٹی جو پانی میں گھلی ہوئی ہے اس سب کو جھاگ ڈھانپ لیتی ہے دیکھنے میں ایک جھاگ کا طوفان دکھائی دیتا ہے۔فرمایا وَ مَا يُوقِدُونَ عَلَيْهِ فِي النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْيَةٍ أَوْمَتَاعِ زَبَدُ مِثْلُهُ وہ سب چیزیں جن کے زیور بنانے کی خاطر یا اور قیمتی سامان بنانے کے لئے یہ استعمال کرتے ہیں اور ان پر آگ پھونکتے ہیں اور آگ پھونک کر پگھلاتے ہیں ان کو ان چیزوں میں سے بھی ایک جھاگ اٹھ کر اوپر آ جاتی ہے فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءَ پس جو جھاگ ہے وہ تو ضائع چلی جاتی ہے۔اس کو تو سنار بھی ایک طرف کر کے پھینکتا چلا جاتا ہے۔وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ اسی طرح جب آسمان سے پانی اُتارتا ہے۔اس پر بھی جھاگ اٹھتی ہے۔وہ ضائع چلی جاتی ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ہاں جو فائدہ پہنچانے والی چیز میں آسمان سے بارشوں کے ساتھ اترتی ہیں یا زمین میں ان کے ساتھ شامل ہو جاتی ہیں۔فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ وہ باقی رکھی جاتی ہیں، وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہیں اور جھاگ کا نظارہ تو آنی جانی چیز ہے۔ایک فانی سا قصہ ہے ادھر جھاگ اُٹھی ادھر سوکھ کر یا ویسے ہی ہوا اڑا کر لے گئی یا ضائع ہو گئی۔سمندر کے کنارے دریاؤں کے کنارے طغیانیوں کے بعد ایسی جھاگ تنکوں اور خس و خاشاک سے بھری ہوئی یا اور گندگیوں کے ساتھ ملوث ملتی ہے لیکن کبھی کوئی اس طرف توجہ نہیں دیتا۔چند دن میں پھر وہ بھی نظر سے غائب ہو جاتی ہے۔ہاں جو سیلاب میں فائدہ پہنچانے والی چیزیں ہیں وہ زرخیز مٹی پیچھے چھوڑ جاتا ہے اور بہت سی چیزیں، قیمتی معد نیات جو اس کے ساتھ آتی ہیں اور آسمان کی بجلی سے جو زرخیزی پیدا ہوتی ہے سیلاب کے پانی میں وہ بھی شامل ہو جاتی ہے اور وہ ساری چیزیں ایسی ہیں جو باقی رہتی ہیں اور زمین کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔یہ جو بارش ہے یہ ایک دن میں اس سے زیادہ کھاد بنادیتی ہے جتنی سارا سال ساری دنیا کے تمام کارخانے مل کر جو بناتے ہیں۔اس سے زیادہ ایک دن میں بارشوں کے نتیجے میں جو آسمانی بجلی سے کھاد بنتی ہے وہ زیادہ ہوتی ہے۔تو تمام تر بناء آسمان پر ہی ہے۔